اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف کیس کا دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل لارجر بینچ نے حکم نامہ جاری کیا، جس میں آئندہ سماعت سے متعلق اہم ہدایات بھی شامل کی گئی ہیں۔
تحریری حکم نامے کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرلز کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے انڈر ٹیکنگ دی ہے کہ ” کسی بھی سیاسی اجتماع میں سرکاری مشینری یا سرکاری وسائل کسی صورت استعمال نہیں ہوں گے ”
پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج کے خلاف کیس کی گزشتہ روز کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں مزید کہا ہے کہ چیف سیکرٹری کے… pic.twitter.com/q0VrPjXve9— Saqib Bashir (@saqibbashir156) September 12, 2026
سماعت کے دوران چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے عدالت کو انڈرٹیکنگ دی کہ کسی بھی سیاسی اجتماع میں سرکاری مشینری یا سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی پولیس خیبرپختونخوا سے آئندہ سماعت پر بیانِ حلفی بھی طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شفیع جان مریم نواز پر تنقید سے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کا حساب دیں، رحمت سلام خٹک
حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت 14 ستمبر، پیر، صبح 10 بجے ہوگی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد اپنے دلائل پیش کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دیگر صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو آئندہ سماعت پر حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔
کیس میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق مختلف قانونی و انتظامی امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





