پنجاب حکومت کی ترجمان اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی پولیس کی وین میں جا کر بیٹھ گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر پولیس کی جانب سے گرفتاری عمل میں لائی جاتی تو وین کے اندر پولیس اہلکار بھی موجود ہوتے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے گرفتاری کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خود گاڑی میں بیٹھ کر ویڈیو بناتے رہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں حراست میں نہیں لیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس صورتحال کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ڈرون فوٹیجز بھی شیئر کر دی گئی ہیںجبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تمام دن لاہور میں آزادانہ طور پر تحرک میں رہے ہیں۔





