پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کی ذیلی کمیٹی نے مختلف کیڈرز کے اساتذہ کی سنیارٹی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے اور قانونی سقم دور کرنے کے لیے قانون میں ضروری ترامیم کی ہدایت کردی۔
ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کمیٹی کے چیئرمین عبدالسلام آفریدی کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اساتذہ کی سنیارٹی کے معاملے پر غور کیا گیا، جنہیں 2014، 2015 اور 2018 میں بھرتی کیا گیا تھا اور بعد ازاں 2018 میں باقاعدہ مستقل کیا گیا۔
اجلاس میں اے ٹی اے کے صدر نے اساتذہ کا مؤقف کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں افسروں کی تعیناتی اور تبادلے کارکردگی سے مشروط
اس موقع پر ڈائریکٹر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر مذکورہ ملازمین کو 2014 سے سنیارٹی دینے کے لیے قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو ترمیمی قانون میں یہ وضاحت بھی شامل کی جائے کہ اس بنیاد پر انہیں ماضی کے مالی فوائد کا دعویٰ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر نے مزید تجویز دی کہ سنیارٹی کا اطلاق ماضی کی تاریخ سے ہونے کی صورت میں پہلے سے دی گئی ترقیوں پر بھی ان اساتذہ کی سنیارٹی کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
کمیٹی نے متاثرہ کیڈرز کے اساتذہ کی سنیارٹی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے اور اس حوالے سے قانونی سقم دور کرنے کے لیے ضروری ترامیم پر پیش رفت کی ہدایت کردی۔





