صرف مذمت اور رپورٹس طلب کرنے سے امن قائم نہیں ہوگا، حکومت عملی اقدامات کرے،میاں افتخار حسین

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صرف مذمت اور رپورٹس طلب کرنے سے امن قائم نہیں ہوگا، حکومت کو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عملی اقدامات کے ذریعے پختونخوا میں امن قائم کرنا ہوگا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں کو پختونخوا میں کون لایا، انہیں تربیت کس نے دی اور امریکہ اور روس کے مفادات کے لیے اس سرزمین کو کس نے استعمال کیا؟ ۔

میاں افتخار حسین نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے بند ہونے سے پختونخوا کی تجارت اور صنعت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پختونخوا کے عوام کو امن، تجارت، روزگار اور تعلیم کا حق حاصل نہیں؟

اے این پی رہنما نے کہا کہ ریاستی پالیسی دہشت گردی کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ایک ہی ریاست میں بعض صوبوں میں امن اور ترقی جبکہ پختونخوا میں بدامنی کیوں ہے، اس سوال کا جواب دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ باچا خان کے پیروکار دہشت گردی کے آغاز سے آج تک امن کی بات کرتے آئے ہیں اور پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ نئے صوبوں کی بات سے پہلے موجودہ صوبے میں امن اور عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم، صوبائی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور پختونخوا کو اس کے آئینی و مالی حقوق فراہم کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ دھماکہ: فائرنگ کا سلسلہ نہ رک سکا، پاک فوج اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری

انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے عوام روزگار کے لیے دوسرے صوبوں اور بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ صوبے میں امن کے قیام کے ساتھ ساتھ روزگار، تجارت، صنعت اور تعلیم کے مواقع پیدا کرے تاکہ عوام کو اپنے ہی صوبے میں باعزت روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔

Scroll to Top