سہیل آفریدی کے پاس دھرنے کی تیاری کا وقت ہے، شہداء کے خاندانوں کے لیے نہیں،ان کا مقصد صرف جلاؤ گھیراؤ ہے ،عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کوہاٹ میں ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار سیکیورٹی فورسز، شہداء اور زخمی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ دھرتی کے بہادر جوانوں نے ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ سی ایم ایچ کوہاٹ میں زیرِ علاج زخمی جوانوں کا جذبہ اور عزم قابلِ دید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی اہلکار وطن کے دفاع کے لیے خون کے آخری قطرے تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گرد بزدل ہیں جو چھپ کر وار کرتے ہیں، تاہم قوم متحد ہو کر انہیں شکست دے گی۔ چھٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کا ڈیوٹی پر واپس آ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا قابلِ فخر ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور سیکیورٹی ادارے متحد ہیں، جبکہ جو قوم شہادت پر فخر کرتی ہو اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاک فوج نے کوہاٹ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی اور آپریشن میں تمام دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان کے بقول سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور جدوجہد سے دہشت گردی کے خاتمے کی امید مزید مضبوط ہوئی ہے۔

عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوہاٹ کے شہداء کے اہلخانہ اور زخمیوں سے ملاقات کے بعد ان کے عزم اور حوصلے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوہاٹ واقعے کے وقت وزیراعلیٰ کہاں تھے اور صوبے میں بدامنی کے باوجود ان کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔

عطا تارڑ نے صوبائی حکومت سے امن و امان کے لیے ملنے والے فنڈز کے استعمال کا حساب مانگتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اسلحہ، تربیت اور جدید سہولیات کے لیے مختص فنڈز کہاں خرچ ہوئے، اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہر شہر میں سیف سٹی منصوبہ مکمل کیوں نہیں ہوسکا اور خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی نئی فورس کیوں قائم نہیں کی جاسکی۔

یہ بھی پڑھیں:جب کوہاٹ غم میں ڈوبا ہوا تھا، وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا لاہور میں سیاسی ڈرامہ رچا رہے تھے، عطا تارڑ

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے سیاست کو ترجیح دے کر صوبے میں تعمیر و ترقی کا عمل روک دیا ہے اور من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر حکمران عوامی مسائل حل نہیں کرسکتے تو انہیں کرسی چھوڑ کر گھر چلے جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں جاری دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور اس کے بعد ترقی کا نیا منصوبہ بنایا جائے گا۔

اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور کسی مسلح جتھے کو اسلام آباد کی طرف آنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کے بقول سیاسی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنے والوں کو اپنے صوبے کے عوام اور ان کے مسائل کے لیے بھی وقت دینا چاہیے۔

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانا جانتی ہے، جبکہ صوبے میں پولیس کی سہولت کے لیے فرانزک لیب تک موجود نہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور شہداء و غازیوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

Scroll to Top