پشاور: خیبرپختونخوا میں بچوں کے پیچیدہ اور خصوصی امراض کے علاج کے لیے تعمیر کیا جانے والا صوبے کا پہلا مخصوص چلڈرن ہسپتال 13 سال گزرنے کے باوجود مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا، جبکہ منصوبے کی ابتدائی لاگت 2.2 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 7.9 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
حیات آباد میں قائم خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کا منصوبہ جون 2013 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے 2016 تک مکمل ہونا تھا، تاہم فنڈز کی کمی، تعمیراتی کام کی سست رفتاری اور مختلف انتظامی رکاوٹوں کے باعث منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہوسکا۔
منصوبے کے ابتدائی پی سی ون میں لاگت 2.2 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، جو 2021 میں ریوائزڈ پی سی ون کے ذریعے بڑھا کر 7.9 ارب روپے کردی گئی۔ حکام کے مطابق اب تک منصوبے کے لیے تقریباً 5.8 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔
یہ ہسپتال مجموعی طور پر 290 بستروں پر مشتمل ہوگا، جہاں بچوں کے متعدد پیچیدہ اور خصوصی امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا میں بچوں کے لیے ایسے مخصوص ہسپتال کی عدم موجودگی کے باعث پیچیدہ امراض میں مبتلا بچوں کے اہل خانہ کو علاج کے لیے لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
صوبے کے متعدد پیڈیاٹرک اسپیشلسٹس بھی دیگر صوبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث بچوں کے پیچیدہ امراض کے علاج کی مطلوبہ سہولیات مقامی سطح پر محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور،قبروں سے لاشیں نکالنے اور اس کی بے حرمتی کرنے والا افغان شہری گرفتار
خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کا مقصد صرف بچوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ ڈاکٹروں، نرسز اور پیرامیڈیکس کو پیچیدہ اطفال کے امراض کی تربیت دینا بھی ہے۔
ادارے میں مختلف پیڈیاٹرک شعبوں میں خصوصی طبی سہولیات، تشخیص، سرجری، تربیت اور تحقیق کا انتظام بھی کیا جانا ہے۔
ہسپتال میں بچوں کے مختلف پیچیدہ امراض کے لیے متعدد خصوصی شعبے قائم کیے جانے ہیں۔ ادارے کے مکمل فعال ہونے سے صوبے میں موجود طبی عملے کی تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کے ذیلی امراض کے ماہرین کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
حکام کے مطابق 2025 تک اسپتال کے سول ورک کا تقریباً 90 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا، تاہم طبی آلات اور دیگر ضروری سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ہسپتال کو مکمل طور پر فعال کرنے میں مزید تاخیر ہوئی۔
اسی سال حکومت نے خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ کا درجہ دیا اور ادارے کے انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے الگ بورڈ آف گورنرز تشکیل دینے کا عمل شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی
جنوری 2026 میں بورڈ آف گورنرز نے ہسپتال کو فعال بنانے کے لیے ڈین، میڈیکل، اسپتال، فنانس اور نرسنگ ڈائریکٹرز سمیت اہم عہدوں پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا۔
حکام کے مطابق سپر اسپیشلسٹس کی بھرتی بھی کی جانی تھی تاکہ بچوں کو پیچیدہ اور خصوصی امراض کا علاج صوبے ہی میں دستیاب ہوسکے۔
ہسپتال کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے مزید 2.1 ارب روپے درکار تھے، جو صوبائی حکومت نے جون 2026 میں جاری کردیے۔ حکام کے مطابق اس رقم سے ضروری مشینری، طبی آلات اور دیگر سامان کی خریداری کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
یوں 2013 میں 2.2 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا منصوبہ اب تقریباً 7.9 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود خیبرپختونخوا کے بچوں کو تاحال اس ہسپتال سے مکمل طبی سہولیات میسر نہیں آسکیں۔
ہسپتال کی عمارت کی تعمیر، مشینری کی تنصیب، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل اور اضافی فنڈز کی فراہمی سمیت مختلف مراحل مکمل کیے جانے کے باوجود منصوبے کا مکمل طور پر فعال نہ ہونا اس کی طویل تاخیر اور انتظامی و مالی مشکلات سے متعلق سوالات کو نمایاں کرتا ہے۔





