گنجائش سے زائد سفر اور سلنڈر دھماکہ: مری حادثے نے 7 جانیں نگل لیں

مری کے حسین اور پرفضا پہاڑوں میں ایک ہولناک اور المناک حادثہ پیش آیا ہے جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔

ایک ہی گاڑی میں گنجائش سے زیادہ افراد کے سفر کے دوران پیش آنے والے اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر سڑکوں پر حفاظتی انتظامات اور لاپرواہی کے حوالے سے انتہائی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مری کی پیچیدہ اور خطرناک پہاڑی سڑک پر سفر کرنے والی ایک مسافر گاڑی اچانک بے قابو ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک گہری اور خطرناک کھائی میں جا گری۔

حادثے کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس بدقسمت گاڑی میں گنجائش سے کہیں زیادہ، یعنی کل 17 افراد سوار تھے۔

کھائی میں گرنے کے بعد گاڑی میں نصب گیس سلنڈر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں فوری طور پر خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔

اس آتشزدگی نے حادثے کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت 7 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

اس جان لیوا حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والی ایک زخمی خاتون نگہت بی بی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہولناک تفصیلات بتائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑی اچانک ان کے قابو سے باہر ہوئی اور سیدھی گہری کھائی میں جا تری۔ گاڑی کے گرتے ہی سلنڈر پھٹنے سے جو آگ لگی اس نے پل بھر میں سب کچھ راکھ کر دیا۔

نگہت بی بی کے مطابق شدید آتشزدگی کے باعث حادثے میں جاں بحق ہونے والے کئی بدنصیب افراد کی میتیں اس قدر جل چکی ہیں کہ ان کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

لاشوں کی اس ناگہانی اور تکلیف دہ حالت نے غم زدہ خاندانوں کے دکھوں اور مشکلات میں مزید کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔

اس خوفناک حادثے میں زخمی ہونے والے 8 افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے راولپنڈی کے معروف ہولی فیملی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق تمام زخمیوں کو اس وقت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیںتاہم ان میں سے دو زخمیوں کی حالت تاحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ المناک حادثہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ اس نے ہمارے نظام اور مسافروں کی لاپرواہی کے کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے

ایک ہی چھوٹی گاڑی میں 17 افراد کا سفر کرنا قانون کی کھلی خلاف ورزی اور جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

پہاڑی راستوں پر گاڑیوں میں معیاری گیس سلنڈروں کا استعمال اور ان کی فٹنس چیک نہ ہونا ایسے بڑے دھماکوں کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں دو ٹریفک حادثات، 13 افراد جاں بحق، 20 زخمی

مری جیسے ڈھلوان اور پیچیدہ پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ کے دوران معمولی سی بے احتیاطی بھی کتنی بڑی تباہی لا سکتی ہے، یہ سانحہ اس کی غمناک مثال ہے۔

یہ المناک حادثہ سات ہنستے بستے گھر اجاڑ گیا اور آٹھ افراد کو ہسپتال کے بستر پر پہنچا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ تلافی ہےجو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اب ہوش کے ناخن لیے جائیں اور سڑکوں پر حفاظتی اصولوں کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جائے۔

Scroll to Top