تبادلے کے باوجود سابقہ نشستوں پر براجمان افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے تبادلوں کے احکامات کے باوجود سابقہ محکموں میں فرائض انجام دینے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور اور تمام انتظامی سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں تبادلوں کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مراسلے کے مطابق روٹیشن پالیسی کے تحت بعض افسران و اہلکاروں کے تبادلے کے احکامات جاری ہونے کے باوجود انہوں نے نہ سابقہ عہدوں کا چارج چھوڑا اور نہ ہی نئی جائے تعیناتی پر رپورٹ کیا، بلکہ بدستور اپنے سابقہ محکموں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق بعض محکمے تبادلوں کے احکامات جاری ہونے کے بعد بھی مذکورہ افسران و اہلکاروں کو سابقہ عہدوں پر برقرار رکھنے کے لیے بار بار محکمہ سے رجوع کر رہے ہیں، جو روٹیشن پالیسی اور مجاز اتھارٹی کے احکامات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اب کوئی وجود نہیں رکھتی، قیادت احتجاج کے بجائے مذاکرات کرے، محمود خان

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس طرز عمل سے نہ صرف ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی اختیار کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ منظور شدہ تبادلوں اور تعیناتیوں پر عمل درآمد بھی متاثر ہو رہا ہے۔

محکمہ نے تمام انتظامی محکموں سے ایسے افسران و اہلکاروں کی فہرست فوری طور پر طلب کرلی ہے جن کے تبادلے روٹیشن پالیسی یا معمول کے تبادلوں کے احکامات کے تحت ہوچکے ہیں، تاہم وہ تاحال سابقہ محکموں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

مراسلے کے مطابق فہرست موصول ہونے کے بعد متعلقہ افسران و اہلکاروں کے خلاف تادیبی اور انضباطی رولز کے تحت کارروائی شروع کی جائے گی۔

Scroll to Top