پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر نمبر 152/2026 ریاست کی مدعیت میں این سی سی آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ محمد عمیر وارثی کی شکایت پر درج کی گئی ہے جس میں پیکا ایکٹ 2016 کی ترمیم شدہ دفعات 9، 10 اور 11 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق سورس رپورٹ کی بنیاد پر کی جانے والی ابتدائی انکوائری میں انکشاف ہوا کہ جنید اکبر اپنے آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ (جس کے 3 لاکھ 39 ہزار 500 فالوورز ہیں) کے ذریعے ریاست مخالف مواد اور بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔
مقدمے میں ان کی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حکومت کو دبانے، خوف و ہراس پھیلانے، نسلی تعصب کو ہوا دینے، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر کے مطابق جنید اکبر نے ’اسلام آباد کو ہم سومنات بنائیں گے‘ جیسے الفاظ استعمال کیے، احتجاج کے دوران ہلاکتوں کے حوالے دیے اور موجودہ ریاستی ڈھانچے پر75، 80 سال کا قبضہ ختم کرنے سے متعلق اشتعال انگیز بیانات دیے۔
یہ بھی پڑھیں : لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل مقرر
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات ریاستی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے اور قانون ہاتھ میں لینے پر اکسانے کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔





