خیبر پختونخوا میں مجوزہ پولیس ایکٹ 2026کے تفصیلی نکات سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
سال 2017 میں تحریک انصاف کی جانب سے پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے اور آئی جی کو مکمل خودمختاری دینے کے دعووں کے برعکس نئے مجوزہ ایکٹ میں تمام آپریشنل، مالی اور انتظامی اختیارات ایک بار پھر صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کے پاس منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ماہرین نے اس مجوزہ ایکٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی سے شدید متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا میں پولیس کی آپریشنل آزادی کو چھیڑنا انسدادِ دہشت گردی کی جاری مہم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس جو اس وقت فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کر رہی ہےاس کے کمانڈ اسٹرکچر کو سیاسی فیصلوں کے تابع کرنے سے فورس کا مورال شدید متاثر ہوگا۔ 2017 کے پولیس ایکٹ کو ختم یا ترمیم کر کے وزیراعلیٰ کو تمام اختیارات کا منبع بنانا ظاہر کرتا ہے کہ پولیس کو عوام کا خادم بنانے کے بجائے سیاسی حکومت کے احکامات اور ترجیحات پر عملدرآمد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
مجوزہ مسودے کے مطابق آئی جی کی تعیناتی، تبادلے اور برطرفی میں وزیراعلیٰ کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ آئی جی کے انتخاب کے لیے وفاق سے پینل مانگا جائے گا اور کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں حکومت نیا پینل مانگنے کی مجاز ہوگی۔ اس کے علاوہ پولیس پالیسی بورڈ کی صدارت جو اب تک آئی جی کے پاس تھی وہ بھی وزیراعلیٰ کو منتقل کر دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کی سالانہ پولیس پالیسی، آپریشنل ترجیحات اور تمام انتظامی امور کی منظوری اب آئی جی نہیں بلکہ صوبائی حکومت دے گی۔
فیلڈ افسران کی پوسٹنگز اور تبادلوں کے معاملے پر بھی شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ نئے نظام کے تحت آر پی او، ڈی پی او، ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی سطح کے افسران کی تعیناتی کا حتمی اختیار وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط ہوگا اور محکمہ انتظامیہ اس کا اعلامیہ جاری کرے گا جبکہ ڈی ایس پی اور اے ایس پی سطح کے تبادلے ہوم سیکریٹری کے اختیار میں ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے فیلڈ کمانڈ براہِ راست سیاسی اثر و رسوخ کے نیچے آ جائے گی اور افسران کی کارکردگی کا معیار آئین و قانون کی پاسداری کے بجائے سیاسی وفاداری بن جائے گا۔
مزید برآں، ڈی ایس پی سطح پر 25 فیصد براہِ راست بھرتیوں کا اختیار وزیراعلیٰ کو دینے، پبلک سیفٹی کمیشن کے سات آزاد ارکان اور ریجنل پولیس شکایات اتھارٹی کے چیئرمین اور ارکان کی نامزدگی بھی صوبائی حکومت کے پاس رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب احتساب کرنے والے تمام اداروں اور کمیشنز کے ارکان کی نامزدگی حکومت خود کرے گی تو غیر جانبدارانہ احتساب کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔
عوام اور پولیس کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے 2015 سے قائم شدہ ڈی آر سی (DRC) نظام میں تبدیلی اور جلسے جلوسوں کے این او سی کی منظوری جیسے اختیارات بھی سیاسی عملداری کے تابع لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان احکامات کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے جن میں سرکاری ملازمتوں میں سیاسی مداخلت اور پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مجوزہ قانون اسی صورت میں نافذ ہوا تو یہ فورس کو قانون کے تابع بنانے کے بجائے سیاست دانوں کے تابع کر دے گا۔





