ریاض میں پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اہم اجلاس ہوا جس میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعہ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل سٹاف کا اجلاس ہوا.
اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق اور سعودی چیف آف جنرل سٹاف نے شرکت کی۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے نے بتایا کہ اجلاس میں سکیورٹی صورتحال اور مملکت سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا، شرکا نے مکہ مکرمہ، شہری آبادی اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اجلاس میں شرکا نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا سیکرٹریٹ اکتوبر میں قائم ہوگا، خواجہ آصف
شرکا نے قرار دیا کہ ریاض میں تینوں ممالک کی عسکری قیادت کا اجلاس باہمی دفاعی شراکت داری کی اہمیت اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے،اجلاس کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے اجتماعی دفاع کے عزم کا بھرپور اعادہ کیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مشترکہ ذمہ داری اور تعاون کو عملی شکل دی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں شریک عسکری قیادت نے تینوں ممالک کے مشترکہ دفاعی عزم کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ، اسلام آباد میں شاندار آتش بازی، آسمان رنگوں سے جگمگا اٹھا
ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی روابط کو مزید منظم کرنے اور مشترکہ سکیورٹی تعاون کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔





