تحریک انصاف سے بیک چینل رابطوں پر عطا تارڑ نے اہم بیان دے دیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض افراد کے درمیان بیک چینل رابطے جاری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو حکومت حالات کے مطابق فیصلہ کرے گی، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کو صوبے کے عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے کچھ لوگ پسِ پردہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں صحت اور تعلیم کی صورتحال پر بھی تنقید کی اور کہا کہ دھرنا مؤخر ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی ساخت متاثر ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی حکمرانی ہونی چاہیے اور صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی امکان نہیں۔

ڈی آئی خان میں دھماکے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کوہاٹ اور ہنگو کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی دھماکا ہوا ہے، تاہم دہشتگردی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : موٹروے اٹک پل سے رکاوٹیں ہٹانے اور ٹک ٹاک بنانے والے 8 پی ٹی آئی کارکنان پنجاب پولیس نے گرفتار کرلئے

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں واضح کرنا ہوگا کہ وہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف۔ وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے ساڑھے 12 سال کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کو پروان چڑھنے دیا۔

عطا تارڑ کے مطابق صوبائی حکومت پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنے، پولیس ٹریننگ اور سیف سٹی منصوبوں پر مؤثر پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب صوبے میں سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 4 ہزار 600 واقعات پیش آئے، جن میں 472 افراد جاں بحق اور 1500 سے زائد زخمی ہوئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف مؤثر آواز نہیں اٹھا رہی اور پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی کی ’’بی ٹیم‘‘ قرار دیا۔ یہ تمام الزامات عطا اللہ تارڑ کے بیان کے طور پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔

Scroll to Top