لکی مروت میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

لکی مروت : خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جائیداد کے تنازع نے ایک بار پھر خونریزی کی شکل اختیار کرلی، سلیمان خیل کے علاقے میں فائرنگ کے ایک واقعے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ نماز مغرب کے بعد مسجد میں پیش آیا، جہاں جائیداد کے تنازع پر دو فریقین کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ واقعے میں ایک فریق کے 3 افراد جبکہ دوسرے فریق کا ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں باپ، بیٹا اور بھتیجا بھی شامل ہیں، جبکہ واقعے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کردیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات اور فائرنگ میں ملوث افراد سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

عبدال خیل میں فائرنگ، تین نوجوان جاں بحق

خیال رہے کہ ضلع لکی مروت میں رواں ماہ فائرنگ اور قتل کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ تین روز قبل بھی لکی مروت کے علاقے عبدال خیل کے قریب نامعلوم افراد نے ایک لوڈر رکشے کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : میرعلی اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک

فائرنگ کے اس واقعے میں حسن خیل کے علاقے میں کرکٹ میچ دیکھ کر واپس آنے والے 3 نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کی تھیں اور حملے میں ملوث افراد کی تلاش جاری رہی۔

تین ہفتے قبل بھی چار لاشیں برآمد

لکی مروت میں اس سے قبل بھی دو مختلف مقامات سے لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ تقریباً تین ہفتے پہلے دو منجی والا روڈ سے 2 افراد جبکہ کرم پل سے بھی 2 لاشیں ملی تھیں۔

ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ چاروں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ ان واقعات کی وجوہات اور ملزمان کے حوالے سے بھی تحقیقات کی گئی تھیں۔

حالیہ سلیمان خیل فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے شواہد جمع کرکے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

Scroll to Top