فنڈ ریزنگ شروع ہوتے ہی سوالات کی بوچھاڑ، پشاور کے شہری کھل کر بول پڑے

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے لانگ مارچ کی کال دیے جانے کے بعد اس کے لیے مالی وسائل اکٹھے کرنے کی مہم بھی شروع کردی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹریٹ میں گزشتہ روز لانگ مارچ کے لیے فنڈ ریزنگ کی گئی، جبکہ عوام سے بھی مالی معاونت کی اپیل کی گئی تھی۔

پشاور کے شہریوں سے جب موجودہ فنڈ ریزنگ مہم اور لانگ مارچ کے لیے عوام سے مالی تعاون مانگنے کے معاملے پر رائے لی گئی تو انہوں نے مختلف تحفظات کا اظہار کیا۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ تھے تو وہ اپنی جیب سے لانگ مارچ کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ شہریوں کے مطابق اس دوران کارکنوں اور غریب افراد کو اپنی جیب سے پانچ پانچ ہزار روپے تک بھی دیے گئے۔

پشاور کے شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر لانگ مارچ سرکاری خزانے سے کیا جاتا ہے تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ سرکاری خزانہ عوام کے پیسوں سے بنتا ہے۔

ان کے مطابق اگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا دوسرادور آج ہو گا، حتمی فیصلے متوقع

شہریوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ شفیع جان یا دیگر وزرا اپنی جیب سے رقم فراہم کریں، عوام سے مالی معاونت کیوں مانگی جا رہی ہے؟

دوسری جانب شہریوں نے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی کے واقعات جاری ہیں، پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ایف سی کے جوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ آئے روز دھماکوں کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔

شہریوں کے مطابق ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کے مسائل موجود ہیں لیکن حکومت کی توجہ صرف ایک قیدی کے معاملے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

بعض شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی احتجاج کے ذریعے انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے اور عوام کو اداروں کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top