اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے آنے والے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی پھیلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ لانگ مارچ کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر سے تعاون کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، جسے اس کی صوبائی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے، نے صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص اور پاکستان بالعموم میں اپنے آنے والے لانگ مارچ کے ذریعےTTPکے عنصر کے ساتھ مل کے بدامنی اور تشدد پھیلانے کا ایک انتہائی خطرناک اور مذموم منصوبہ تیار کر لیا ہے
اس مذموم…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 2, 2026
وزیر دفاع کے مطابق 15 جولائی 2024 کے بنوں واقعے کی طرز پر بدامنی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں واقعے میں ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ نے کینٹ پر خودکش حملہ کیا تھا، جس میں 8 فوجی جوان شہید ہوئے تھے، جبکہ 19 جولائی کو ہونے والے بنوں مظاہرے میں سیاسی اور قوم پرست عناصر بھی شریک ہوئے تھے۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ لانگ مارچ کے دوران فوجی یا پولیس تنصیبات کے قریب افراتفری پھیلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فنڈ ریزنگ شروع ہوتے ہی سوالات کی بوچھاڑ، پشاور کے شہری کھل کر بول پڑے
انہوں نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ کے منتظمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی جیسے کسی بھی پرتشدد اقدام کی کوشش کو سختی سے روکا جائے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں واضح فرق ہے۔ ان کے بقول سیاسی جدوجہد کے پردے میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر مسلح بغاوت کی کوشش ملک کی سالمیت پر حملہ تصور ہوگی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ریاست کے دفاع اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔





