خیبرپختونخوا کی صورتحال پر عطا اللہ تارڑ کے اہم انکشافات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اور انہیں انتظامی معاملات میں آزادی دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ طالبان اور تحریک انصاف کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولے پر اتفاق کے لیے عمل جاری تھا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے بجائے انہیں انتظامی معاملات میں آزادی دی گئی، اس اتحاد کے شواہد بھی موجود ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے مساجد، ہسپتالوں، تھانوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ صوبے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں اور صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل

انہوں نے دہشت گردوں کو انتظامی معاملات میں شریک بنانے کو آئینی نظام کی ناکامی قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہدا اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو یاد رکھنے پر زور دیا۔

Scroll to Top