پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ اہتمام نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیوتھراپی انسٹی ٹیوٹ (نوری ہسپتال) میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے لیے سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں بیماری کی جلد تشخیص، بروقت علاج اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
’’ہر کہانی منفرد ہے، ہر سفر اہم ہے ‘‘کے موضوع کے تحت منعقدہ سیمینار میں طبی ماہرین، کینسر سے صحت یاب ہونے والے افراد اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور خواتین کو بروقت طبی مشورہ لینے کی ترغیب دینا تھا۔
بیگم چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے سیمینار میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 21 اٹامک انرجی کینسر ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین اپنی لگن اور محنت سے کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، حتیٰ کہ بیماری کی آخری اور شدید مراحل میں بھی مریضوں کی دیکھ بھال جاری رکھتے ہیں، تاکہ ضرورت مند افراد کو علاج کی سہولت میسر آسکے۔
انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ایک قریبی دوست میں چھ سال قبل کینسر کی چوتھی اسٹیج کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کی دوست نے نوری ہسپتال سے علاج کروایا اور اب صحت مند زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ہسپتال کی کوششوں کو بھی سراہا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی ڈاکٹر شبانہ سعید نے چھاتی کے سرطان کے حوالے سے خاموشی ختم کرنے اور اس بیماری پر کھل کر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ آگاہی کا پیغام اپنے خاندانوں اور برادری کی دیگر خواتین تک پہنچائیں، تاکہ بیماری کی جلد تشخیص اور بروقت علاج کو فروغ دیا جا سکے۔
اس سے قبل شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اٹامک انرجی کینسر ہسپتال نوری کی ڈائریکٹر ڈاکٹر حمیرہ محمود نے عوامی آگاہی، جلد تشخیص اور بروقت علاج کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ طبی مشورہ لینے میں تاخیر نہ کریں۔
ڈاکٹر حمیرہ محمود نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 21 اٹامک انرجی کینسر ہسپتالوں کا نیٹ ورک ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کو تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے نوری ہسپتال کو بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی کا بھی ذکر کیا، جس میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ’’ریز آف ہوپ‘‘ (امید کی کرنیں) پروگرام کے تحت اسے اینکر سینٹر قرار دیا جانا شامل ہے۔
کینسر کے علاج کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نوری ہسپتال میں سال 2025 کے دوران تقریباً 11 ہزار نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا، جبکہ 2007 میں یہ تعداد تقریباً 3 ہزار تھی۔
انہوں نے ہسپتال میں دستیاب جدید علاج کی سہولیات کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جن میں سہ جہتی کنفارمل ریڈیوتھراپی (3D-CRT)، شدت کے مطابق شعاعوں کی مقدار کو کنٹرول کرنے والی ریڈیوتھراپی، ایم آر آئی کی رہنمائی میں جدید ہائبرڈ بریکی تھراپی اور سائبر نائف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
نوری ہسپتال میں موجود چار سمیولیٹرز اور تین لینیئر ایکسیلیریٹرز کینسر کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں معاون ہیں۔ اس کے علاوہ سائبر نائف کی سہولت، جو 2022 سے کام کر رہی ہے، نے جدید شعاعوں کے ذریعے علاج تک مریضوں کی رسائی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
سیمینار کے دوران چھاتی کے سرطان سے آگاہی، بیماری کی جلد تشخیص، بروقت علاج، مریضوں کی ہمدردانہ دیکھ بھال، درست معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور صحت مند طرزِ زندگی کے موضوعات پر پریزنٹیشنز اور ماہرین کے درمیان گفتگو بھی ہوئی۔
اس موقع پر بچوں کے کینسر سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی کامیابیوں کو سراہنے کے لیے خصوصی نشست منعقد کی گئی۔ اس کے علاوہ ایف ایم ڈی سی کے میڈیکل طلبہ اور نوری ہسپتال کے مختلف شعبوں سے وابستہ نوجوان ڈاکٹروں نے ایک پروگرام پیش کیا، جس میں یہ پیغام اجاگر کیا گیا کہ چھاتی کے سرطان کا علاج ممکن ہے، خصوصاً اس صورت میں جب بیماری کی جلد تشخیص ہو جائے۔
سیمینار میں آگاہی کے لیے ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی، شرکاء کے لیے سوال و جواب پر مشتمل مقابلہ منعقد کیا گیا اور پوسٹر سازی کے مقابلے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ آگاہی واک نکالی گئی اور چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی کے لیے لگائے گئے اسٹالز کا دورہ بھی کیا گیا۔
یہ سیمینار پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ تھا، جن کا مقصد ملک بھر میں قائم 21 اٹامک انرجی کینسر ہسپتالوں کے نیٹ ورک کے ذریعے کینسر سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا، بیماری کی جلد تشخیص کی حوصلہ افزائی کرنا اور عوام کو تشخیص و علاج کی قابلِ رسائی سہولیات فراہم کرنا ہے۔





