شو ختم، کہانی تمام، تحریکِ انتشار کا 13 سالہ تاریک باب اختتام پذیر، پختونخوا کو بدامنی اور ٹی ٹی پی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

پشاور: خیبر پختونخوا میں سنہ 2013 سے مسلسل اقتدار پر براجمان انتشاری ٹولے کی مجرمانہ غفلت، ناکام پالیسیوں اور بیڈ گورننس نے پورے صوبے کو دہشت گردی کی خونریز لہر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

پختون ڈیجیٹل ریسریچ ٹیم کے مطابق  سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی شہادتوں، حساس اضلاع میں بدامنی اور خوف کی فضا نے انتشاری ٹولے کی نام نہاد انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور انتظامی صلاحیت کے تمام تر دعووں کا پول کھول دیا ہے۔

 ایک دہائی سے زائد عرصے تک حکمرانی کے باوجود یہ انتشاری ٹولہ پولیس کو نہ تو جدید وسائل فراہم کر سکا اور نہ ہی عوام کو سیکیورٹی کی ضمانت دے سکا، جس کے نتیجے میں آج صوبے کا ہر شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔

جغرافیائی طور پر افغانستان سے متصل سرحدی اضلاع میں شدت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت نے صوبے کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

 انتشاری ٹولے کی مفاہمانہ اور ناکام پالیسیوں کے باعث کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک، اپر وزیرستان اور لوئر وزیرستان جیسے جنوبی اور ضم شدہ اضلاع دہشت گردی کے شدید خطرات کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عوامی سیکیورٹی کے پیشِ نظر ڈیرہ اسماعیل خان میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

صوبائی انتظامیہ کی اس سنگین ناکامی اور تباہ کن صورت حال کے پیشِ نظر ہی وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع کو ‘ہارڈ ایریازقرار دینا پڑا ہے، جو انتشاری ٹولے کی نااہلی کا کھُلا ثبوت ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کو انتشاری ٹولے کی عدم توجہی کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں 159 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ پولیس پر مجموعی طور پر 536 خونریز حملے رپورٹ کیے گئے۔

تباہی کا یہ سلسلہ یہی نہیں رکا، بلکہ سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ ہی میں مزید 122 پولیس اہلکاروں کی شہادت کا دردناک دعویٰ سامنے آیا ہے۔

 پولیس چوکیوں کی غیر محفوظ عمارتیں، اساتذہ اور پولیس کی خالی اسامیوں کو نہ بھرنا اور فورس کو جدید آلات و نائٹ ویژن تھرمل کیمرے نہ فراہم کرنا انتشاری ٹولے کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ 2 برس کے دوران دہشت گردی کے تقریباً 6,200 واقعات پیش آئے، جن میں 1,200 سے زائد بے گناہ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

اس دوران افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے، جبکہ رواں سال بھی اب تک صوبے میں 14 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : انتشاری ٹولے کی بیڈ گورننس اور دہشت گردوں سے روابط نے پختونخوا کو تباہ کر دیا، دیر بالا میں تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار

اس سے قبل 2025 میں ملک بھر میں ہونے والے 23 خودکش اور فدائین حملوں میں سے 14 صرف خیبر پختونخوا میں ہوئے، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انتشاری ٹولے کی مسلسل لاپرواہی کی وجہ سے پختونخوا خودکش حملوں اور فدائین کا گڑھ بن چکا ہے۔

2013 سے قائم حکومت کے باوجود انتشاری ٹولے نے نہ تو انٹیلی جنس نظام کو مضبوط کیا اور نہ ہی انسدادِ دہشت گردی کے شعبے (CTD) کو بااختیار بنایا۔

 محض کھوکھلے بیانات، احتجاجی سیاست اور انتشار پھیلانے پر توجہ مرکوز رکھنے والے اس انتشاری ٹولے نے صوبے کے امن، معیشت، تعلیم اور عوامی زندگی کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

پختونخوا عوام کا کہنا ہے کہ حکمرانی کا پیمانہ نعرے بازی اور انتشار نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے، اور اس پیمانے پر انتشاری ٹولہ تاریخی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

Scroll to Top