ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، باڑہ بازار بند، سیکیورٹی ہائی الرٹ

جہانزیب آفریدی
ضلع خیبر : خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں امن و امان کی قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

 اس سلسلے میں انتظامی افسر بابرکی ہدایت پر ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے مین بازار کو مکمل طور پر بند کر کے اس کے تمام داخلی و خارجی راستے سیل کر دیے گئے ہیں اور بازار کا باقاعدہ کنٹرول پولیس نے سنبھال لیا ہے۔

گردونواح کی تمام چوکیوں کے انچارجز کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ فیصلے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں، جبکہ تمام دکانداروں، تاجروں اور مارکیٹ آپریٹرز کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ آج کوئی بھی دکان کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : بیرونِ ملک روزگار کے مواقع، 30 ہزار نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق علاقے کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے اور عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پشاور پولیس کے تازہ دم دستے بھی باڑہ پہنچ چکے ہیں۔

 پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

 یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی ریاست مخالف انتشاری تحریک اور انتشاری ٹولے نے پولیس اہلکاروں پر سیدھی فائرنگ کی تھی، جس کے باعث علاقے کے حالات کشیدہ ہوئے اور کشیدگی پھیلی۔

انتظامیہ کے مطابق باڑہ بازار کی آج کی یہ مکمل بندش اور ناکہ بندی صرف اور صرف عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور امن دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے کی گئی ہے۔

پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے علاقے اور پورے پختونخوا کا امن تباہ کرنے میں ملوث اس انتشاری ٹولے کے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

 ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس کی حراست میں لیے گئے ان انتشاری عناصر میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد بھی ملوث پائی گئی ہے جو علاقے میں ناامنی پھیلانے کی کوششوں میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں : سیاسی روپ میں ریاستی املاک پر حملہ: باڑہ میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے 25 افغان شہریوں سمیت 50 پی ٹی آئی شرپسند گرفتار

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایک اہم انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کو 800 ارب روپے کے خطیر فنڈز فراہم کیے گئے، تاہم اس خطیر رقم کا تاحال کوئی حساب نہیں دیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ وفاق نے دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کی ترقیاقی پیش رفت کے لیے صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کیا، مگر وہ مسلسل یہ جھوٹ بولتے رہے کہ وفاق مالی امداد نہیں کر رہا۔

 وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں مکمل قیامِ امن اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے جامع اور جدید حکمت عملی تشکیل دے دی گئی ہے۔

Scroll to Top