تعلیمی سرگرمیاں بحال، افواہیں ختم، خیبر پختونخوا کے تمام شہروں میں کاروبارِ زندگی رواں دواں

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد صوبے بھر میں زندگی معمول کی شاہراہ پر گامزن ہے، جہاں پشاور، چترال، باجوڑ اور دیگر تمام علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے ہیں اور شہری بلا تعطل اپنی روزمرہ کی مصروفیات انجام دے رہے ہیں۔ 

سیاسی ڈھانچے میں اس بڑی تبدیلی کے باوجود صوبائی دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں میں کاروبارِ زندگی پوری طرح فعال ہے۔

دوسری جانب صوبے کے مختلف اضلاع جن میں ایبٹ آباد، کرک اور چترال شامل ہیں، میں نئے سیاسی و انتظامی سیٹ اپ کی آمد پر شہریوں کی جانب سے بھرپور خوشی کا اظہار کیا گیا۔

 کرک میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی خوشی میں شہریوں نے ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کیں، جبکہ ایبٹ آباد میں نئے سیٹ اپ کی حمایت میں ایک عوامی ریلی نکالی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، باڑہ بازار بند، سیکیورٹی ہائی الرٹ

 اسی طرح چترال میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر شہریوں نے جشن منایا اور مٹھائیاں بانٹیں۔

علاوہ ازیں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے باقاعدہ طور پر کھل گئے ہیں۔

 ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان حکمت اللہ وزیر نے اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کی تمام تر تشویش اور افواہوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام اسکول، کالجز اور جامعات معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا کوئی فیصلہ یا تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔

Scroll to Top