سرکاری گاڑیوں پر عیاشیاں کرنے والوں کا دَور ختم: بونیر میں گاڑیوں کی عدم واپسی پر پی ٹی آئی وزراء کے خلاف مقدمات درج

ضلع بونیر :  سرکاری اثاثوں کی عدم واپسی اور ان کے ناجائز استعمال کے معاملے پر قانون نے حرکت میں آتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق صوبائی وزیر ریاض خان اور رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) عبد الکبیر خان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

 دونوں رہنماؤں کے خلاف امانت میں خیانت اور سرکاری خیانت سے متعلق تعزیراتِ پاکستان کی انتہائی سنگین دفعہ 409 کے تحت دو جداگانہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

دستیاب ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق سابق صوبائی وزیر ریاض خان کے خلاف تھانہ پیر بابا میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ ایم پی اے عبد الکبیر خان کے خلاف تھانہ ناوگئی میں مقدمہ قائم ہوا ہے۔

 حکام کے مطابق یہ دونوں مقدمات باقاعدہ طور پر درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کی ضبطگی اور تفصیلات سے متعلق سامنے آنے والی فہرست نے مزید سنسنی پھیلا دی ہے، جس میں متعدد بیش قیمت گاڑیاں ان سیاسی شخصیات کے زیرِ استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : تعلیمی سرگرمیاں بحال، افواہیں ختم، خیبر پختونخوا کے تمام شہروں میں کاروبارِ زندگی رواں دواں

سرکاری دستاویزات اور مرتب کردہ فہرست کے مطابق سابق وزیر اور اراکینِ اسمبلی کے زیرِ استعمال گاڑیوں میں ایم پی اے فخر جہاں سے منسوب سفید رنگ کی ٹویوٹا گرینڈے، عبد الکبیر خان سے منسوب سیاہ رنگ کی ٹویوٹا ریوو ڈبل کیبن اور سابق وزیر ریاض خان کے نام پر درج سفید رنگ کی ہونڈا سوک شامل ہے۔

 قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ امانت میں خیانت اور سرکاری گاڑیوں پر ناجائز قبضے کے خلاف قانونی کارروائی بلا تفریق جاری رہے گی، جبکہ اس کیس میں آئندہ چند روز کے دوران اہم گرفتاریوں اور گاڑیوں کی برآمدگی کا بھی قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top