پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خاتمے کے بعد صوبائی وسائل کے بے دریغ اور ناجائز استعمال، لوٹ مار اور کرپشن کی نئی اور انتہائی شرمناک داستانیں سامنے آنے لگی ہیں۔
اپنے دورِ اقتدار میں شفافیت اور سادگی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے، جہاںسابق اراکینِ اسمبلی اور عہدے داروں نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے عیش و عشرت اور شاہ خرچیوں کے لیے صوبائی خزانے اور سرکاری املاک کو مالِ غنیمت سمجھ کر استعمال کیا۔
سامنے آنے والے ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی مسائل سے مکمل طور پر بے نیاز ہو کر 23 قیمتی سرکاری گاڑیاں ناجائز اور غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں دبا رکھی تھیں۔
ان گاڑیوں میں لینڈ کروزر فارچیونر، ٹویوٹا ریو، ویگو، گرینڈی، سِوک اور یارس جیسی مہنگی اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شرپسندوں کے تمام ہتھکنڈے ناکام، امن و امان کی بحالی کے لیے سی سی پی او پشاور میاں سعید کی باڑہ آمد
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پی ٹی آئی ایم این اے سہیل سلطان کے پاس ٹویوٹا یارس، جبکہ سابق ایم پی اے شرافت اورسابق ایم پی اے ملک شفیع اللہ خان کے پاس سرکاری ٹویوٹا ریو زیرِ استعمال تھی۔
اسی طرح سابق ایم پی اے اعظم خان، عبید الرحمان اور ایم این اے محبوب شاہ کے پاس بھی سرکاری ٹویوٹا ریو گاڑیاں ناجائز طور پر دبا کر رکھنے کے ناطق ثبوت سامنے آئے ہیں۔
عوامی وسائل کی اس لوٹ مار میں دیگر اراکین بھی پیچھے نہیں رہے۔ پی ٹی آئی سابق ایم پی اے لیاقت خان کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا کرولا، جبکہ سابق ایم پی اے عبدالمنعم اور چیئرمین زکوٰۃ شانگلہ زید اللہ کے پاس سرکاری ٹویوٹا ریو موجود تھی۔
سابق ایم پی اے فخر جہاں کے زیرِ استعمال سرکاری ٹویوٹا گرینڈی، سابق ایم پی اے عبدالکبیر کے پاس ٹویوٹا ریو اور ریاض خان کے زیرِ استعمال سرکاری ہونڈا سِوک تھی، جبکہ سابق ایم پی اے انور خان اور یامین خان ٹویوٹا ریو اور فضل حکیم سرکاری ٹویوٹا فارچیونر پر عیش کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں : سرکاری گاڑیوں پر عیاشیاں کرنے والوں کا دَور ختم: بونیر میں گاڑیوں کی عدم واپسی پر پی ٹی آئی وزراء کے خلاف مقدمات درج
پشاور ڈویژن سے تعلق رکھنے والےسابق ایم پی اے ڈاکٹر اسراٰر مہمند کے پاس تو ایک نہیں بلکہ دو دو سرکاری گاڑیاں (ٹویوٹا فارچیونر اور ٹویوٹا ویگو) رکھنے کے ثبوت ملے ہیں، جبکہ کوہاٹ ڈویژن کے داؤد اور شاہ تراب کے پاس سرکاری ٹویوٹا جی ایل آئی قابض تھی۔
مردان ڈویژن سے پی ٹی آئی زرشاد نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے تین تین سرکاری گاڑیاں (ٹویوٹا کرولا، ٹویوٹا ویگو اور سزوکی کلٹس) اپنے زیرِ استعمال رکھیں اور تحصیل چیئرمین صوابی کے پاس بھی ٹویوٹا یارس موجود تھی۔
ریاستی املاک پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھنے اور بار بار یاد دہانی کے باوجود سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے پر انتظامیہ نے قانون کا آہنی ہتھوڑا حرکت میں لے آیا ہے۔
بونیر میں قانون کی دھجیاں اڑانے پر پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر ریاض خان اور ایم پی اے و ڈیڈیک چیئرمین عبدالکبیر خان کے خلاف دفعہ ۴۰۹ تعزیراتِ پاکستان کے تحت دو الگ الگ مقدمات (ایف آئی آر) درج کرا دیے گئے ہیں۔
ان انکشافات اور قانونی کارروائی نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے صرف اپنی ذاتی شاہ خرچیوں اور عیش و عشرت کو ترجیح دی، تاہم اب قانون کی عملداری یقینی بناتے ہوئے لوٹے گئے تمام قومی وسائل کی واگزاری کا عمل بلاامتیاز جاری ہے۔





