وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت اور موجودہ سیاسی طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کا ساتھ نہیں دیا اور اپنی پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایک طرف سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیوں میں مصروف تھیں، لیکن دوسری جانب پی ٹی آئی ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں ناکام رہی۔ انہوں نے سابق حکمران جماعت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی معاملے پر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ضروری تھا۔
وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث غیر معمولی اقدامات کی ضرورت پیش آئی اور اسی صورت حال کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
احسن اقبال نے سابق پی ٹی آئی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے دہشت گردوں کو پاکستان واپس لانے اور انہیں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے بقول اس پالیسی کے نتائج اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر سوال اٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی تھیں تو پی ٹی آئی کو ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، تاہم جماعت ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ وفاقی وزیر نے اس طرزِ عمل کو پاکستان کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اس عرصے میں سیاسی انتقام اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کے مطابق ان کی جماعت نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر شکایت کرنے کے بجائے سیاسی حالات کا سامنا کیا۔
وفاقی وزیر نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کو بھی قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
احسن اقبال نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو صوبے میں دہشت گردی کی نئی لہر کے تناظر میں ضروری قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے صورت حال کو تشویش ناک بنایا، جس کے باعث وفاقی حکومت کو یہ اقدامات کرنا پڑے۔
انہوں نے سابق پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دہشت گردوں کی واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے فیصلے پر بھی اعتراض اٹھایا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سزا یافتہ قیدی ہیں اور انہیں جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
احسن اقبال کے مطابق کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کا معاملہ قانونی دائرے میں آتا ہے اور اس بارے میں فیصلہ عدالتوں کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانونی معاملات کو سیاسی مطالبات کے بجائے عدالتی طریقہ کار کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی سے متعلق معاملے پر متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نوعیت کے فیصلے عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
احسن اقبال نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ان رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جن میں اسپتال کے لیے خیراتی کرکٹ میچوں کے ذریعے جمع کیے گئے فنڈز کا ذکر کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر نے الزام لگایا کہ خیراتی مقاصد کے لیے جمع ہونے والی رقم سیاسی مہم کے لیے استعمال کی گئی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو چیلنج کیا کہ اگر جماعت کو اخبار کی رپورٹ پر اعتراض ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کرے اور عدالت سے رجوع کرے۔
احسن اقبال نے اس معاملے پر پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جماعت کو عدالت میں منفی فیصلے کا خدشہ ہے۔ یہ مؤقف وفاقی وزیر کی جانب سے پیش کیا گیا، جبکہ فنڈز کے استعمال سے متعلق الزام کو آزادانہ تصدیق کے بغیر حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے برطانوی اخبار ڈیلی میل میں وزیراعظم شہباز شریف سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق شہباز شریف نے برطانوی عدالت میں اخبار کی رپورٹ کو چیلنج کیا تھا، جس کے بعد اخبار نے معافی مانگی۔
احسن اقبال نے اس مثال کے ذریعے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے معاملے پر پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خبر یا رپورٹ کو غلط سمجھا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے حوالے سے پی ٹی آئی کو عدالت سے رجوع کرنے کا چیلنج دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ جماعت اس معاملے میں قانونی کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔





