پشاور : خیبر پختونخوا میں سابق حکمرانوں کی 13 سالہ مجرمانہ غفلت، بدترین کرپشن اور نااہلی کے نتیجے میں صوبائی دارالحکومت پشاور کا تعلیمی نظام اور عمارتیں مکمل طور پر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
تھانہ یکہ توت کی حدود دیر کالونی، کالج روڈ (سپین جماعت) کے قریب واقع نجی اسکول کی خستہ حال عمارت کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں دسیوں معصوم نونہال اور اساتذہ خونی ملبے کے ڈھیر تلے دب گئے۔
جاں بحق بچوں اور زخمیوں کے تازہ ترین اعداد و شمار
لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کی انتظامیہ اور ترجمان محمد عاصم کے مطابق اس دلخراش سانحے میں اب تک 21 معصوم بچوں اور 1 خاتون ٹیچر کی لاشیں ہسپتال منتقل کی جا چکی ہیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 27 ہو چکی ہے۔ تمام متوفی بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید اور ہسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 43 سے زائد ہو چکی ہے۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے 25 سے زائد شدید زخمی بچوں کو ایل آر ایچ منتقل کر کے ٹراما ہال میں ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے، جہاں کئی بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر زخمیوں کو نصیراللہ بابر میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پاک فوج، ریسکیو 1122 اور پولیس کا جوائنٹ ریسکیو آپریشن
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کے جوان بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر (DEO) پشاور اور پاک فوج کے افسران کی براہِ راست نگرانی میں سنگین اور تیز ترین ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ملبے کے ڈھیر سے مزید بچوں اور عملے کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری اور ہنگامی آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
آئی جی پی خیبر پختونخواذوالفقار حمید نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او پشاور کو خود تمام امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو فوری و محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی ہدایت کی ہے۔ آئی جی پی نے ایس ایس پی آپریشنز اور پولیس ریسکیو ٹیموں کو موقع پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا ہے۔
زخمیوں کی منتقلی کے لیے ‘گرین راہداری (Green Corridor) قائم
ہسپتالوں تک ایمبولینسز کی بلا تعطل اور تیز ترین رسائی یقینی بنانے کے لیے آئی جی پی ذوالفقار حمید نے چیف ٹریفک آفیسر پشاور کو فوری طور پر گرین راہداری (Green Corridor) قائم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
آئی جی پی کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی طرف جانے والے تمام راستوں پر ٹریفک کی روانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ معصوم بچوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں خیبر پختونخوا پولیس متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
اعلیٰ حکام اور سیاسی قیادت کا ہسپتالوں کا دورہ
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود اور مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نصیراللہ بابر میموریل ہسپتال اور ایل آر ایچ پہنچے۔ انہوں نے زخمی بچوں اور اساتذہ کی عیادت کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔
محکمہ تعلیم کا انکوائری ڈرامہ اور عوام کا شدید غصہ
دوسری جانب، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا نے روایتی کاغذات پر مبنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے تعلیم ڈاکٹر سید امیر عبداللہ اور سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم کی ہدایت پر پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو ایک روز میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عوام اور سیاسی حلقوں کا شدید ردعمل:
پشاور کے عوام اور متاثرہ خاندانوں نے شدید اشتعال کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ خونی اور تاریک راج نے پشاور کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مرمت کے بجائے صرف سیاسی انتشار، بدعنوانی اور جھوٹے نعروں پر توجہ دی۔
13 سالہ مجرمانہ غفلت اور کھنڈرات کی وجہ سے آج 21 معصوم پھولوں کی شمعیں گل ہو گئیں، جبکہ حکمران روایتی انکوائری کمیٹیوں کا ڈھونگ رچا کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔





