نااہل وزیرِ تعلیم اور کمیشن مافیا کی ملی بھگت سے اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ، معصوم بچوں کی لاشوں پر پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ بے نقاب

پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی شہادت کے بعد صوبے میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 13 سالہ حکمرانی کے دوران ہونے والی بدترین کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے راز فاش ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

 عینی شاہدین نے پشاور سانحے کو صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں تعلیم کے شعبے میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن اور کمیشن مافیا کا براہِ راست نتیجہ قرار دے دیا ہے۔

تعلیمی فنڈز کی لوٹ مار اور جعلی پراجیکٹس

رپورٹس اور عوامی خدشات کے مطابق گزشتہ 13 سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں ’تعلیمی ایمرجنسی‘ اور ’اسکول اپ گریڈیشن‘ کے نام پر وفاق اور بین الاقوامی اداروں سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کے فنڈز کو کاغذات کی حد تک محدود رکھا گیا۔

 اسکولوں کی عمارات کی بہتری، سیفٹی آڈٹ اور بنیادی ڈھانچے کے فنڈز کو پی ٹی آئی کے من پسند ٹھیکیداروں، سابق وزراء اور مشیرانِ تعلیم کی جیبوں میں منتقل کیا گیا۔

رشوت کے عوض جعلی این او سیز کا دھندا

محکمہ تعلیم اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 13 سالہ بدترین سفارش اور رشوت کلچر کا نتیجہ یہ نکلا کہ بغیر کسی سیفٹی کلیئرنس اور انجینئرنگ آڈٹ کے، خستہ حال رہائشی مکانات کو پرائیویٹ اسکول چلانے کے لائسنس اور این او سیز (NOCs) جاری کیے گئے۔

 رشوت کا یہ نظام اتنا مضبوط تھا کہ بچوں کی زندگیوں پر پیسے کو ترجیح دی گئی اور یوں پورے صوبے میں موت کے کنویں قائم ہونے دیے گئے۔

عوام کا شدید غم و غصہ: کرپشن کے پیسوں سے پی ٹی آئی کا سیاسی کچرا پالا گیا

واقعے کے بعد سول سوسائٹی کی جانب سے سخت ترین الفاظ میں ردِعمل سامنے آیا ہے:

یہ بھی پڑھیں : کرپٹ نظام، جعلی این او سی اور پی ٹی آئی کی مجرمانہ غفلت، تحریکِ انتشار اور نااہل حکومت کے خلاف عوام کا پھوٹ پڑا آتش فشاں

عوامی ردِعمل: پی ٹی آئی حکومت نے 13 سال صوبے کو لوٹا۔ تعلیمی بجٹ اسکولوں پر لگانے کے بجائے دھرنوں، سیاسی ریلیوں اور اپنے سیاسی اراکین کی جیبیں بھرنے پر ضائع کیا گیا۔ معصوم بچوں کی شہادت اس کرپٹ نظام کے منہ پر طماچہ ہے۔

سخت ترین سوالات: عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور عدلیہ کو فوری طور پر پی ٹی آئی کے 13 سالہ دور کے محکمہ تعلیم کے تمام فنڈز، این او سیز کے اجراء اور سابق وزراء و مشیرانِ تعلیم کے اثاثوں کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔

احتساب اور انصاف کا مطالبہ

عوام اور متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف اسکول مالک کو گرفتار کر کے معاملے کو دبایا نہ جائے، بلکہ پی ٹی آئی کے ان تمام سابق وزراء، مشیران اور افسران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے رشوت لے کر ان جعلی اسکولوں کی منظوری دی اور تعلیمی بجٹ میں اربوں روپے کی ہیر پھیر کی۔

Scroll to Top