ڈاکٹروں کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود، مشیرِ صحت نگار جوہر زخمی بچوں کے درمیان خود موجود، علاج اور طبی سہولیات کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی

پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے کے فوراً بعد صوبائی حکومت کی انتظامی مشینری گراؤنڈ زیرو پر مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے۔

 حادثے میں شدید زخمی ہونے والے معصوم بچوں کو فوری اور معیاری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مشیرِ صحت نگار جوہر نے خود ہسپتال میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔

 وہ ایمرجنسی وارڈز اور آئی سی یو میں زخمی بچوں کے پاس خود موجود رہ کر علاج معالجے کے تمام انتظامات کی براہِ راست مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔

مشیرِ صحت نگار جوہر نے ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا اور زخمی بچوں کی عیادت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی۔

انہوں نے صرف کاغذی احکامات تک محدود رہنے کے بجائے گراؤنڈ پر موجود رہ کر طبی عملے کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور زخمیوں کی نگہداشت کا خود مشاہدہ کیا۔ مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے انہوں نے علاج کے ہر مرحلے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔

یہ بھی پڑھیں : بچوں کی لاشوں کے سوداگر، ایم این اے آصف خان، فضل الہیٰ اور اسکول مالک خان محمد کا رشوت کے بدلے معصوموں کی زندگیوں کا سودا

علاج کے عمل کی خود نگرانی کرتے ہوئے مشیرِ صحت نگار جوہر نے سینئر ڈاکٹرز اور ہسپتال انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور ہنگامی بنیادوں پر خدمات انجام دینے کی ہدایت کی۔

 انہوں نے واضح کیا کہ تمام زخمی بچوں کو ہر قسم کی ادویات، سرجیکل سامان اور طبی سہولیات بلا تاخیر اور بالکل مفت فراہم کی جائیں۔

 مشیرِ صحت نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مریض بچوں کی نگہداشت میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ اور ڈاکٹرز 24 گھنٹے الرٹ رہیں تاکہ ہر بچے کو بہترین طبی امداد میسر آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں : نااہل وزیرِ تعلیم اور کمیشن مافیا کی ملی بھگت سے اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ، معصوم بچوں کی لاشوں پر پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ بے نقاب

مشیرِ صحت کے اس ہنگامی دورے اور مسلسل موجودگی کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ سانحے کا شکار ہونے والے معصوم بچوں کے علاج میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

انہوں نے بلڈ بینک، این ایچ ڈی اور تمام اہم شعبوں میں ادویات کے اسٹاک کا جائزہ لیا تاکہ مریضوں کو کسی چیز کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

حادثے کے بعد متعلقہ انتظامی حکام اور طبی عملہ مکمل طور پر الرٹ ہے اور مشیرِ صحت نگار جوہر کی براہِ راست supervision میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top