کرپٹ گٹھ جوڑ بے نقاب: اسکول مالک کا ناقص تعمیر کا اعتراف، پی ٹی آئی کے 13 سالہ تاریک دور پر سوالات کی بوچھاڑ

پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں منہدم ہونے والے اسکول کے مالک خان محمد کے اعترافی بیان نے جہاں صوبائی انتظامیہ کے دعووں کا پول کھول دیا ہے، وہیں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکمرانی میں پھیلنے والی بدترین کرپشن، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کو بھی ننگا کر دیا ہے۔

 اسکول مالک خان محمد نے خود اعتراف کیا ہے کہ عمارت کی بنیاد محض ڈیڑھ سال پہلے رکھی گئی تھی اور ناقص تعمیراتی بنیاد کی وجہ سے عمارت بارشوں کا ایک جھونکا بھی برداشت نہ کر سکی اور زمین بوس ہو گئی۔

مالک کے اس اعتراف نے یہ اہم اور سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ جب عمارت کی بنیادیں ہی غیر معیاری اور ناقص تھیں، تو اس وقت متعلقہ حکومتی ادارے، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور محکمہ تعلیم کہاں سوئے ہوئے تھے؟

 پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور،  سہیل آفریدی اور نااہل و کرپٹ وزرائے تعلیم عوام اور صوبے کی بنیادی حفاظت سے مکمل بے نیاز ہو کر صرف انتشاری سیاست، دھرنوں اور سیاسی ڈرامے بازیوں میں مصروف رہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاورسکول حادثہ، فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی قائم، آج ہی رپورٹ طلب

محکمہ تعلیم اور صوبائی انتظامیہ نے خیبر پختونخوا کے اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کیے بغیر اور سیفٹی ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کس کی ایما پر جعلی این او سیزجاری کیے؟

ذرائع اور مقامي لوگوں کا شدید الزام ہے کہ پی ٹی آئی کے بااثر ایم این اے آصف خان اور سابق ایم پی اے فضل الہیٰ نے اسکول مالک سے بھاری رشوت اور کمیشن وصول کر کے کرپشن کا بازار گرم کیے رکھا۔

 انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے معائنہ ٹیموں کو خاموش کرایا اور ایک غیر قانونی، خستہ حال عمارت کو معصوم بچوں کے لیے موت کا جال بننے دیا۔

دوسری جانب سیکریٹری ایجوکیشن عنایت اللہ وسیم کا یہ کہنا کہ عمارت مخدوش حالت میں تھی اور ہمیں کسی نے نہیں بتایا، پی ٹی آئی کے انتظامی ڈھانچے کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔

 صوبے کے عوام کا مطالبہ ہے کہ صرف اسکول مالک کے اعتراف پر بات ختم نہیں ہونی چاہیے، بلکہ رشوت لے کر جعلی این او سی دینے والے کرپٹ وزرائے تعلیم، ایم این اے آصف خان اور سابق ایم پی اے فضل الہیٰ کو بھی کٹہرے میں لاکر معصوم بچوں کے قتلِ عمد کا حساب لیا جائے۔

Scroll to Top