اسلام آباد: دانش اسکول سے کامیابی کا سفر طے کر کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے والی ڈاکٹر علینہ نے بتایا کہ ان کے والد کے انتقال کے بعد دانش اسکول نے ان کے لیے ایک باپ اور سہارے کا کردار ادا کیا اور انہیں ایسا خاندان فراہم کیا جہاں وہ بغیر کسی خوف کے اپنے خواب دیکھ سکیں۔
دانش اسکول اسلام آباد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر علینہ سمیت دیگر ہونہار بچوں کی جدوجہد کو شاندار الفاظ میں سراہا اور کہا کہ ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کی ترقی میں مالی وسائل سب سے بڑی رکاوٹ ہیں کیونکہ غریب اور محروم طبقات کے بچے ایچی سن جیسے بڑے اداروں میں تعلیم کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اسی ناانصافی کے خاتمے اور غریب خاندانوں کے بچوں کو اشرافیہ کے برابر معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے سال 2010 میں دانش اسکولز کی بنیاد رکھی گئی تھی تاکہ ہر ہونہار بچے کو مساوی مواقع مل سکیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دانش اسکولز کا دائرہ کار پنجاب سے بڑھا کر پورے پاکستان بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلایا جا رہا ہے جہاں طلبہ کو جدید آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی لیبارٹریز سمیت تمام جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : تعلیمی بجٹ ہضم اور معدنیات پر ڈاکہ، ایم این اے ساجد مہمند کی کرپشن نے ضلع مہمند کا تعلیمی نظام مفلوج کر دیا
تقریب میں دانش اسکول کے دیگر طلبہ نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا، جن میں کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے طالبعلم زاہد گل نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث وہ اتوار کو کباڑ بیچ کر پڑھائی کے اخراجات پورے کرتے تھے مگر دانش اسکول نے ان کا مستقبل روشن کر دیا، جس پر وزیراعظم اور دیگر شرکا جذبات سے مغلوب ہو گئے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے بھی خطاب کیا اور دانش اسکولز کے قیام کو ملکی تعلیم و تدریس میں ایک تاریخی اور انقلابی قدم قرار دیا۔
تقریب کے دوران دی گئی بریفنگ کے مطابق دانش اسکول اسلام آباد 30 ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر 360 ہونہار بچوں اور بچیوں کو داخلہ دیا گیا ہے اور اسکول میں جدید ترین ربوٹکس، سائنس اور آئی ٹی لیبارٹریز سمیت ای لائبریری کی سہولت موجود ہے۔





