تعلیمی بجٹ ہضم اور معدنیات پر ڈاکہ، ایم این اے ساجد مہمند کی کرپشن نے ضلع مہمند کا تعلیمی نظام مفلوج کر دیا

مہمند : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) ساجد خان مہمند کی شدید غفلت اور عدم توجہی کے باعث ضلع مہمند کا تعلیمی بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر زبوں حالی کا شکار ہو چکا ہے۔

 ایم این اے ساجد خان مہمند کی ناکامی کی وجہ سے ضلع بھر کے سرکاری و نجی سکولوں اور دینی مدارس کی عمارتیں اس حد تک خطرناک اور خستہ حال ہو چکی ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور ڈپٹی کمشنر مہمند کیپٹن (ر) بلال شاہد راؤ کی ہدایات پر ان کا ساختی حفاظتی آڈٹ شروع کرنا پڑا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس کے نوٹیفکیشن مورخہ 16 اکتوبر 2026 کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر لوئر مہمند نے تحصیل یکہ غونڈ، پنڈیالی، پڑانگ غار اور امبار کی کمیٹیاں نوٹیفائی کر دی ہیں۔

ہر کمیٹی میں نائب تحصیلدار، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل)، ایگزیکٹو انجینئر سی اینڈ ڈبلیو (بلڈنگز)، ٹی ایم اے، پی ایس آر اے، دینی مدارس، پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین) اور ہوپ کے نمائندے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ تاریک دور کی نااہلی، لنڈی کوتل میں طالبات کی زندگیوں سے کھلواڑ، سکول کی بوسیدہ چھت کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ

 مہمند عوام کا کہنا ہے کہ ایم این اے ساجد خان مہمند کی بے حسی کے باعث معصوم بچوں کے سروں پر موت کی تلوار لٹک رہی ہے اور منتخب نمائندے کی عدم توجہی کا خمیازہ طلبہ بھگت رہے ہیں۔

تعینات کردہ کمیٹیاں تین دن کے اندر اپنا معائنہ مکمل کریں گی اور پرانی، خستہ حال، گنجائش سے زائد طلبہ والی اور شدید متاثرہ عمارتوں کی نشاندہی کو ترجیح دی جائے گی۔

تمام عمارتوں کو معائنے کے بعد محفوظ، مرمت طلب یا غیر محفوظ کے زمرے میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ ساجد مہمند کی ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں فوری خطرے کا باعث بننے والی عمارتوں کو مناسب حفاظتی اقدامات کی فراہمی تک زیرِ استعمال نہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کی چیخیں آئین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی بند ہوتی سیاسی دکانداری کے لیے ہیں،عوام کا سخت ردعمل

عملدرآمد کے پہلے مرحلے میں تحصیل پنڈیالی میں نائب تحصیلدار نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس (میل) اور ٹی ایم اے کے نمائندوں کے ہمراہ نو تعلیمی اداروں کا دورہ کیا۔ معائنے کے دوران غير محفوظ کمروں میں طلبہ کو نہ بٹھانے کی سخت ہدایت کی گئی، جبکہ ایک سکول کی پرانی اور خطرناک چھتوں کو مزید تکنیکی جائزے کے لیے نشان زد کیا گیا۔ اس کے علاوہ تحصیل یکہ غونڈ اور پڑانگ غار میں بھی معائنے کی کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب اپر مہمند میں اسسٹنٹ کمشنر (ہیڈکوارٹرز) نے تمام متعلقہ محکموں سے نمائندے نامزد کرنے کی ہدایت کی ہے، جو پیر 19 اکتوبر 2026 کو صبح 9 بجے اسسٹنٹ کمشنر آفس اپر مہمند میں طلب کیے گئے رابطہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مہمند عوام کا کہنا ہے کہ ایم این اے ساجد خان مہمند کے دعوؤں کے برعکس پورا ضلع تعلیمی زبوں حالی کی تصویر بنا ہوا ہے، اور اگر ضلعی انتظامیہ بروقت حفاظتی معائنہ شروع نہ کرتی تو پی ٹی آئی نمائندے کی غفلت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی تھی۔

Scroll to Top