ضلع اورکزئی: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کی بدانتظامی، ناقص طرزِ حکمرانی اورکرپشن کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔
ضلع اورکزئی میں قبائلی عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی بحالی کے نام پر منظور کیے گئے کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے سالہا سال گزرنے کے باوجود ادھورے پڑے ہیں، جبکہ مختص کردہ خطیر فنڈز کی بندر بانٹ اور عدم توجہی نے حکومت کے شفافیت اور تبدیلی کے تمام دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سال 2021 میں ضلع اورکزئی کے مختلف بازاروں کی تزئین و آرائش، انفراسٹرکچر کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے 53 کروڑ روپے کا بھاری منصوبہ منظور کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت مشتی میلہ بازار کے لیے 5 کروڑ 85 لاکھ روپے کے خاص فنڈز مختص کیے گئے تھے، جبکہ دیگر اہم تجارتی مراکز بشمول فیروز خیل میلہ، انجانی بازار، کلایہ بازار اور علجو کی بحالی بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں : سوئی ناردرن کا پشاور میں گیس کی بندش سے متعلق بڑا اعلان
تاہم کئی سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود ان بازاروں میں ترقیاتی اور تزئین و آرائش کا کام تاحال التوا کا شکار ہے اور کسی ایک بازار کا منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔
مقامی شہریوں اور تاجر برادری نے صوبائی حکومت کی شدید غفلت پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کا تمام تر فوکس اسلام آباد پر چڑھائی، سیاسی دھرنوں اور مسلسل احتجاجی سیاست پر رہا، جبکہ قبائلی اضلاع کی عوام کو بدترین انتظامی نااہلی اور کرپشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کا التوا نہ صرف منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ ان فنڈز کے شفاف استعمال پر بھی سنگین شکایات جنم لے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ فیسوں میں اضافہ
انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کس کے اشارے پر اورکزئی کی معاشی ترقی کے منصوبوں کو برباد کیا گیا اور اربوں کے بجٹ کے باوجود کام کیوں ٹھپ پڑا ہے؟
عوام نے اعلیٰ حکام اور احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اورکزئی کے ترقیاتی فنڈز میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی اور تاخیر کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔





