مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی شدید ترین بحرانی صورتحال اور خلیجی خطے پر حوثی باغیوں کے ڈرون و میزائل حملوں کے بعد عالمی معیشت میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔
یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کی سب سے اہم توانائی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور فوجی مراکز کو ایک ساتھ نشانہ بنائے جانے کے فوری بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حوثی باغیوں نے اپنے بیان میں سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے انتہائی حساس توانائی، دفاعی اور شہری انفراسٹرکچر پر بڑا ڈرون و میزائل حملہ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق انہوں نے ینبع میں دنیا کی سب سے بڑی سعودی تیل کمپنی آرامکو کی اہم تنصیب، شیبہ آئل فیلڈ اور دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ابہا ایئرپورٹ اور مختلف فوجی اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔
اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں اور جانی و مالی نقصان کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم اس پیشرفت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
اس خطرے کے سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کے سودوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 17 سینٹ (0.15 فیصد) کا اضافہ ہوا، جس کے بعد خام تیل کی قیمت 110.03 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سنسنی خیز خبر سے کچھ دیر قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث برینٹ کی قیمت میں 3 ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، مگر حملوں کی خبر آتے ہی قیمتوں نے اپنا رخ بدل لیا۔
یہ بھی پڑھیں : روس پر پابندیاں ختم ، ٹرمپ کے ایک دستخط نے عالمی مارکیٹ ہلا دی: خام تیل کی قیمتیں اچانک کم ، کھلبلی مچ گئی!
دوسری جانب امریکی بازار کے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں بھی یکدم 1.68 ڈالر (1.66 فیصد)کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے ساتھ ہی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بڑھ کر 103.09 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں آئل سپلائی لائن اور آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید سنسنی خیز اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے براہِ راست اثرات ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑیں گے۔





