عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) بلوچستان کے صوبائی صدر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چمن کی عدالت سے عبوری ضمانت منسوخ ہونے پر فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے درخواستِ ضمانت مسترد ہوتے ہی پولیس نے انہیں کمرہ عدالت کے اندر سے حراست میں لے کر چمن بائی پاس پولیس لاک اپ منتقل کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق اصغر خان اچکزئی کو ایک سال قبل چمن میں سنگین قبائلی تنازع کے دوران قتل ہونے والے مقامی شخص تیمور شاہ کے واقعے میں درج مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
مقتول کے والد ظاہر شاہ کی مدعیت میں اصغر خان اچکزئی کے خلاف تھانہ میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتل) اور 365 (اغوا) کے تحت سنگین دفعات شامل کی گئی تھیں۔
اصغر خان اچکزئی بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن اور اے این پی بلوچستان کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر انسپکشن ٹیم نے اضاخیل گودام کی زہریلی گندم کا بھانڈا پھوڑ دیا
ان کی غیر متوقع گرفتاری کے بعد علاقے میں سیاسی اور انتظامی تحرک بڑھ گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی قانونی کارروائی اور تفتیش ضابطے کے مطابق آگے بڑھائی جا رہی ہے۔





