خیبرپختونخواکے اسکولوں کے نام پر سرکاری خزانے کو ساڑھے 37 کروڑ کا چونا، تحقیقات کا حکم

خیبر پختونخوا کے اسکولوں کے لیے خریدی گئی ڈیوائسز اور کمپیوٹرز سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبے کے اسکولوں کے لیے ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز کی خریداری میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کی جائے گی۔

 انکوائری کمیٹی کی سربراہی ڈپٹی سیکریٹری ایڈمن ایجوکیشن نسیم خان کریں گےجبکہ سیکشن آفیسر آڈٹ مشتاق احمد کو کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے اور ایک رکن کی نامزدگی کمیٹی خود کرے گی۔

اعلامیے کے مطابق تحقیقات میں 35 کروڑ 90 لاکھ 21 ہزار روپے کے ٹیبلٹس اور پی سیز کی خریداری کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 1 کروڑ 54 لاکھ 45 ہزار روپے کی خریداریاں بھی آڈٹ اور انکوائری کے دائرہ کار میں شامل کی گئی ہیں۔

انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریداری کے مقصد، جواز اور خریدی گئی ڈیوائسز کے استعمال کی جانچ کرے۔ کمیٹی ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات معلوم کرے گی اور اس کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کرے گی۔ 

یہ بھی پڑھیں : فردوس شمیم نقوی پی ٹی آئی کےایڈیشنل سیکرٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی

اس کے علاوہ اسٹاک رجسٹرز کی جانچ، فزیکل تصدیق اور آلات کا استعمال نہ ہونے کی صورت میں سرکاری خزانے کو پہنچنے والے مالی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا۔ کمیٹی 3 روز میں اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کرے گی۔

Scroll to Top