صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کے لواحقین کیلئے بڑے مالی امداد کا اعلان

اپیکس کمیٹی اجلاس میں دہشتگردوں کے سہولتکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی شدید بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کو مجبوری میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کرنا پڑا۔

 انہوں نے انکشاف کیا کہ 2018 تک صوبے سے دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن بعد میں دہشت گردوں کو دوبارہ واپس لایا گیا جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے گورنر ہاؤس پشاور میں خیبر پختونخوا کی اعلیٰ سطح اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی اور اعلیٰ عسکری و سول قیادت نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ صوبائی حکومت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 13 سالہ اقتدار کے دوران تعلیم، صحت، امن اور عوامی فلاح کے امور کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

پولیس و کاؤنٹر ٹیررازم میں غفلت: پی ٹی آئی کے دور میں پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، سیف سٹی منصوبہ ادھورا چھوڑا گیا اور محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔

800 ارب روپے کے فنڈز کا زوال: 2010 کے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے دیے گئے، مگر اس کے باوجود دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی میں بڑا بریک تھرو: گورنر راج کے بعد فردوس شمیم نقوی کا ایڈیشنل سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ

مالیاتی اسکینڈلز: وزیراعظم نے مالی بدعنوانی پر نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے، کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے اور پلسر گولڈ منصوبے میں من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر اربوں روپے کی دھاندلی کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد نے جانوں کا نذرانہ دیا اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، لہٰذا شہدا کی قربانیوں کی بے حرمتی سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور تمام فیصلوں کی آئین اور قانون مکمل اجازت دیتے ہیں۔ حالات بہتر کرنے کے لیے ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل تشکیل دے دی گئی ہے جو صوبے کی بحالی کے لیے عملی حکمت عملی تیار کرے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولتکاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا بلا تفریق خاتمہ کیا جائے گا، جس کے لیے وفاق اور عسکری اداروں کے ساتھ کامل یکسوئی ضروری ہے۔

Scroll to Top