اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور انرجی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث مانیٹری پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد نئی شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد پر مقرر ہو گئی ہے۔
مرکزی بینک کے گورنر جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پالیسی ریٹ میں اضافے کا فیصلہ اکثریتی بنیادوں پر کیا گیا جس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ممبران نے اضافے کے حق میں اور ایک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
واضح رہے کہ اپریل 2026 میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کے خطرات کے پیشِ نظر شرح سود میں 1 فیصد اضافے کے بعد سے اسے برقرار رکھا گیا تھا اور گزشتہ تقریباً تین سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب مرکزی بینک نے شرحِ سود میں اضافہ کیا۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں شرح سود میں اچانک 0.5 فیصد کمی کی گئی تھی، جس کے بعد جنوری اور مارچ میں اسے 10.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا۔ 2024 کے وسط سے مرکزی بینک نے بنیادی شرحِ سود میں مجموعی طور پر 10.5 فیصد کی کمی کی تھی، جو جون 2023 میں ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں تبدیلی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کی صورتِ حال، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنا اور ملک میں گندم کی قیمتوں سمیت متعدد عناصر اس فیصلے کا سبب بنے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باعث مہنگائی کو ہدف کی سطح تک لانے میں پہلے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور درآمدات کے دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتِ حال پر بھی اثر پڑے گا۔ پہلے توقع تھی کہ اگلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک مہنگائی 7 فیصد کے ہدف کے قریب آ جائے گی، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے ثانوی اثرات کے باعث اس عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 2 سے 3 ماہ کے دوران بنیادی مہنگائی کم ہوئی ہے، مگر آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں کے بالواسطہ اثرات تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے ترسیلاتِ زر (ریمیٹنسز) کا تخمینہ 44 ارب ڈالر سے بڑھا کر 45 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے، کیونکہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہو چکی ہیں۔
انہوں نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی نئی اسکیم اور بیرونِ ملک روزگار کے رجحانات کی بنیاد پر اس میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال میں برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 30.8 ارب ڈالر تھیں۔
دوسری جانب، درآمدات میں اضافے کا دباؤ برقرار ہے اور یہ رواں مالی سال 71 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں (جو گزشتہ مالی سال 64.5 ارب ڈالر تھیں)۔ تاہم ترسیلات اور برآمدات کے سہارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان ہی رہنے کا امکان ہے۔
معاشی ترقی کی رفتار پر گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی نظرثانی شدہ شرح 3.7 فیصد رہی، کیونکہ آخری سہ ماہی میں شرحِ نمو 2.9 فیصد کے تخمینے سے کم ہو کر 2 فیصد رہ گئی جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات تھے۔ اگرچہ پہلی تین سہ ماہیوں میں اوسط معاشی ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہی تھی، تاہم آخری سہ ماہی کی سست روی سے سالانہ شرح متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور پولیس نے نامور پشتو گلوکار شاہسوار کو گرفتار کر لیا
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے ابتدائی جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی سرگرمیاں دوبارہ بہتر ہو رہی ہیں، اسی لیے اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔





