ڈائریکٹریٹ آف ٹورسٹ سروسز خیبرپختونخوا کے بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے کی مبینہ خورد برد سامنے آگئی۔
خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی نے اس حوالے سے مسلم کمرشل بینک کے حکام کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، جبکہ 16 سکیل کے کمپیوٹر آپریٹر اسرار احمد کو غیر قانونی ٹرانزیکشن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ سرکاری ملازم مبینہ طور پر خزانے سے کروڑوں روپے نکال رہا تھا، جبکہ محکمہ کے ضم ہونے کے باوجود بینک نے اکاؤنٹ سیل نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق بینک اکاؤنٹ سے 53 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کی گئی، جس میں بینک عملہ کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔
ڈائریکٹریٹ آف ٹورسٹ سروسز نے خط میں لکھا کہ مسلم کمرشل بینک نے حکومتی قوانین اور ضوابط پر عمل نہیں کیا اور عدالت میں کیس ہونے کے باوجود اکاؤنٹ پر ڈیبٹ لاک نہیں لگایا۔
ذرائع کے مطابق مئی 2023 میں اکاؤنٹ میں 53 کروڑ روپے موجود تھے، جبکہ جولائی 2023 میں صرف 80 لاکھ روپے رہ گئے۔
دو ماہ کے دوران کروڑوں روپے نکالے گئے، جبکہ یہ رقم نجی ٹور آپریٹرز کی بینک گارنٹی کے طور پر سرکاری خزانے میں جمع تھی۔
مزید انکشاف ہوا کہ بینک اکاؤنٹ کا آڈٹ بھی نہیں کرایا گیا تھا۔ مسلم کمرشل بینک سے 7 اپریل تک وضاحت اور جواب طلب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور، مشیر برائے سیاحت و ثقافت کے پرسنل سیکرٹری کی سرکاری معاملات میں مداخلت، ملازمین کا احتجاج






