وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اعلان کیا ہے کہ آج 9 اپریل سے چین پر مجموعی طور پر 104 فیصد محصولات نافذ ہو جائیں گے۔
اس اقدام کا مقصد چین کی تجارتی پالیسیوں پر دباؤ بڑھانا اور امریکی تجارتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی محصولات کے حوالے سے بات چیت کے لیے 70 ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان مذاکرات میں اپنے تجارتی مفادات اور عالمی سطح پر امریکی فوج کی موجودگی پر بات کریں گے۔
کیرولین لیویٹ نے واضح کیا کہ تجارتی معاہدہ صرف اسی صورت میں کیا جائے گا جب امریکی ملازمین کے مفادات کو تحفظ ملے گا اور تجارتی خسارہ کم ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی تجارتی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک مضبوط تجارتی معاہدہ تیار کرے جس سے امریکہ کو فائدہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں چین کی جانب سے امریکی درآمدات پر اضافی ٹیرف، ٹرمپ کا ردعمل
ترجمان نے ایران کے جوہری معاہدے کے حوالے سے بھی بات کی، اور کہا کہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات اس ہفتے ہوں گے۔ اس دوران چین کے جوابی ٹیرف کے رد عمل میں ٹرمپ نے 50 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی تجارت میں مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔





