وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت کسی خاتون کو گرفتار نہیں کیا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان خود ہی پولیس وین میں بیٹھے اور خواجہ سروس اسٹیشن پر اتر گئے تھے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جھوٹی ہمدردیاں دکھانے کے لیے ایک “فلاپ شو” کیا گیا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی شاہی انداز میں جیل کاٹ رہے ہیں، اور بشریٰ بی بی کو جیل میں بی کلاس ملنے کے باوجود بہترین سہولتیں طلب کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف بانی پی ٹی آئی معافی مانگتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ سازشیں کر رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان بھی بانی پی ٹی آئی کی فسادی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں، اور ان کے ساتھ ہونے والی سیاسی کھیل بازی اب کسی بھی سطح پر ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں جھوٹے پروپیگنڈے سے آپ کی کرپشن اور چوریاں چھپ نہیں سکتیں، عظمیٰ بخاری کا بیرسٹر سیف کو جواب
عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت پہلے انقلاب لانے کا دعویٰ کرتی تھی، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان سڑکوں پر ذلیل ہو رہے تھے۔ اب یہ سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے اور عوام نے ان کی حقیقت کو پہچان لیا ہے۔





