خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کی بنیاد رکھ دی گئی

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں ٹیکنالوجی اور جدت کو فروغ دینے کے لیے خیبر پختونخوا انوویشن حب کے قیام کا فیصلہ کیا ہے،

جو پشاور یونیورسٹی میں قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو موجودہ انکیوبیشن سنٹر کی عمارت میں مکمل طور پر فعال کیا جائے گا، جس سے یونیورسٹی کو سالانہ چھ کروڑ روپے تک آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انوویشن حب ایک جدید اور کثیر المقاصد آئی ٹی سنٹر ہوگا جس میں 22 پرائیویٹ دفاتر، دو ایونٹ ہالز، ایک کانفرنس روم، بورڈ روم، دو کمیٹی رومز اور دو کو-ورکنگ اسپیسز شامل ہوں گی۔

اس مرکز کا مقصد نہ صرف یونیورسٹی طلباء بلکہ فری لانسرز، آن لائن کاروباری افراد، نجی آئی ٹی کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

حکومت اس منصوبے کے تحت نوجوانوں کو تمام ضروری سہولیات — جیسے ورک اسپیس، ٹیکنیکل سپورٹ، میٹنگ رومز، اور دیگر وسائل — ایک ہی چھت تلے مہیا کرے گی، تاکہ ان کی تخلیقی اور کاروباری صلاحیتوں کو فروغ ملے۔

یہ بھی پڑھیں پشاور: مائنز اینڈ منرلز بل پر بریفنگ ہنگامے کی نذر، ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، پی ٹی آئی کا واک آؤٹ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ہر ڈویژن میں ڈیجیٹل کونیکٹس سینٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر یہ سینٹرز کرائے کی عمارتوں میں شروع کیے جائیں گے جن میں آئی ٹی پارکس، کمپیوٹر لیبز، اور کو-ورکنگ اسپیسز شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام اداروں کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا اور نوجوانوں کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ماحول فراہم کیا جائے گا۔ منصوبوں کی کامیابی کی صورت میں دیگر جامعات میں بھی انوویشن حب قائم کیے جائیں گے تاکہ صوبے بھر میں ڈیجیٹل انقلاب ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top