واشنگٹن/کیف : امریکا اور یوکرین کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک معاہدے کی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے ہیں۔
یوکرین کی نائب وزیراعظم یولیا سویرِیڈنکو نے اس معاہدے کو اقتصادی شراکت داری اور سرمایہ کاری کے لیے ایک ابتدائی مگر مؤثر قدم قرار دیا ہے۔
یولیا سویرِیڈنکو کا کہنا تھا کہ یہ یادداشت دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری فنڈز کی راہ ہموار کرے گی اور توانائی و معدنیات کے شعبوں میں اشتراک کے نئے دروازے کھولے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین نایاب معدنی ذخائر سے مالا مال ملک ہے، اور ان ذخائر کا مؤثر استعمال عالمی معیشت میں ملک کا کردار بڑھا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کا دن وائٹ ہاؤس میں امریکا اور یوکرین کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے اہم موقع سمجھا جا رہا تھا، تاہم صدر جو بائیڈن اور یوکرینی صدر وولا دیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے دوران تنازعہ کی فضا پیدا ہو گئی۔
ملاقات کے دوران امریکی صدر نے نایاب معدنی ذخائر کے حوالے سے تجویز دی کہ اگر یوکرین روس کے خلاف امریکی حمایت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے قیمتی معدنی ذخائر امریکا کے حوالے کر دینے چاہییں۔
اس تجویز پر ردِعمل دیتے ہوئے صدر زیلنسکی نے سخت مؤقف اپنایا اور کہا،یہ کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں ہے، میں اپنا ملک نہیں بیچ سکتا۔
یہ بھی پڑھیں یوکرین جیت نہیں رہا، امریکی امداد نہ ہوتی تو جنگ دو ہفتے میں ختم ہو جاتی, ٹرمپ کی زیلنسکی پر تنقید
امریکا کی طرف سے یوکرین پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں اس معاہدے کو سفارتی اور معاشی توازن قائم رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین کی معدنی دولت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید جیوپولیٹیکل کشمکش کا امکان ہے۔





