پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت کا نیا مکروہ منصوبہ بے نقاب، درجنوں پاکستانی قیدی خطرے میں

پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت کا نیا مکروہ منصوبہ بے نقاب، درجنوں پاکستانی قیدی خطرے میں

بھارتی خفیہ ایجنسیاں دوبارہ ایک نیا ڈرامہ رچانے کی تیاری کر رہی ہیں، جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت سامنے آنے کے بعد بھارت ایک اور مذموم منصوبے کی تیاری میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں دوبارہ ایک نیا ڈرامہ رچانے کی تیاری کر رہی ہیں، جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس سے قبل بھی بھارت ایسے ہتھکنڈے استعمال کر چکا ہے۔ پاکستانی شہری ضیاء مصطفیٰ کو جنوری 2003 میں جبری طور پر حراست میں لیا گیا اور اکتوبر 2021 میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔ اسی طرح محمد علی حسن کو 2006 سے غیر قانونی قید میں رکھا گیا اور اگست 2022 میں ایک فیک انکاونٹر کے ذریعے جان سے مار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، 2003 سے اب تک بھارت نے 56 بے گناہ پاکستانی شہریوں کو جبری طور پر قید کر رکھا ہے۔ ان قیدیوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ بھارت ان قیدیوں کو جعلی انکاونٹرز میں دہشتگرد ظاہر کر کے شہید کر سکتا ہے۔

ذرائع نے ان پاکستانیوں کے نام بھی ظاہر کیے ہیں، جنہیں طویل عرصے سے بھارتی خفیہ اداروں نے غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے۔

محمد ریاض (25 جون 1999)محمد عبداللہ مکی (8 اگست 2002)تفہیم اکمل ہاشمی (28 جولائی 2006)ظفر اقبال (11 اگست 2007)عبد الرزاق شفیق (نومبر 2010)نوید الرحمن (17 اپریل 2013)محمد عباس (12 مارچ 2013)صدیق احمد (7 نومبر 2014)محمد زبیر (14 جنوری 2015)عبد الرحمن (15 مئی 2015)سجاد بلوچ (14 جولائی 2015)وقاص منظور (2015 سے)
نوید احمد 2015 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
محمد عاطف 7 فروری 2016 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
حنظلہ 20 جون 2016 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
ذبیح اللہ 22 مارچ 2018 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
محمد وقار اپریل 2019 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
اماد اللہ عرف بابر پترا 26ستمبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
عبدالحنان اکتوبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
سلمان شاہ اکتوبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
حبیب خان نومبر 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
امجد علی 28 مارچ 1994 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
نذیر احمد یکم دسمبر 1994 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
خالد محمود 1994 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
عبدالرحیم 28 مئی 1995 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
عبد المتین 7 مئی 1997 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
ذوالفقار علی 27 فروری 1998 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد رمضان 25 جون 1999 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد عارف 26 دسمبر سن 2000 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
شاہنواز 27 مئی 2001 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
ارشد خان 29 اکتوبر 2001 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد نعیم بٹ 18 اپریل 2003 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد ایاز کھوکھر 6 مارچ 2004 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد یاسین 14 ستمبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد فہد 27 اکتوبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد فہد 10 نومبر 2006 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
عبداللہ اصغر علی 31 مارچ 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد یونس 31 مارچ 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد حسن منیر 21 اپریل 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
مرزا راشد بیگ 17 نومبر 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد عابد 17 نومبر 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
سیف الرحمن 17 نومبر 2007 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
عمران شہزاد 10 فروری 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
فاروق بھٹی 10 فروری 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
شہباز اسماعیل قاضی 5 اکتوبر 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
شہباز اسماعیل نومبر 2008 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد عادل 24 نومبر 2011 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
بہادر علی 25 جولائی 2016 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد عامر 21 نومبر 2017 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
خیام مقصود 24 اگست 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
دلشن 28 فروری 2022 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی و غیر قانونی قید میں ہیں
عثمان ذوالفقار 16 مئی 2023 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
ابو وہاب علی 7 اگست 2023 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد ارشاد 13 اکتوبر 2023 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
محمد یعقوب 25 جنوری 2025 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
قادر بخش 19 مارچ 2025 سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جبر ی قید میں ہیں
بھارت بالا کوٹ طرز پر نام نہاد دہشتگرد کیمپوں کا بیانیہ بنا کر حملہ کرسکتا ہے،

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں، اور عالمی برادری کو اس صورت حال کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

Scroll to Top