بھارت کی پاکستان کے لیے فضائی حدود بند، پاکستان نے اقوام متحدہ میں احتجاج ریکارڈ کرایا۔
تفصیلات کے مطابق 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے انتقامی اقدام کے طور پر پاکستان کی تمام کمرشل اور فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ 30 اپریل سے 23 مئی 2025 تک نافذ العمل رہے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ اقدام 22 اپریل کو ہونے والے حملے کے ردعمل کے طور پر کیا گیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام عائد کیا اور سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا، اٹاری-واہگہ بارڈر بند کر دیا، پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے، اور اب فضائی حدود بند کر کے دشمنی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان نے اس بھارتی اقدام پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور ثبوتوں کے ساتھ بھارت کی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائیوں کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کو ’’یکطرفہ، غیر منصفانہ، سیاسی مقاصد پر مبنی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی‘‘قرار دیا گیا۔
پاکستان نے نہ صرف اپنی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند کیں بلکہ سارک ویزا اسکیم کو بھی معطل کر دیا اور واہگہ بارڈر پر آمد و رفت روک دی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے شملہ معاہدے کے تحت بھارت کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کی وارننگ بھی دی، جب تک بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی ضابطوں کی پابندی نہیں کرتا۔
دوسری جانب، بھارت نے اپنی مغربی سرحد پر جدید جیمنگ سسٹمز نصب کیے ہیں تاکہ پاکستانی فضائیہ کی نیویگیشن اور حملے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام امریکی، روسی اور چینی سیٹلائٹ نیویگیشن کو بلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستانی فضائیہ کے لیے اہم ہیں۔
فاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ممکنہ جنگ کی تیاری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
بھارت کی فضائی حدود کی بندش سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) سمیت تمام پاکستانی ایئرلائنز متاثر ہوں گی، جنہیں اب جنوب مشرقی ایشیا کے شہروں مثلاً کوالالمپور پہنچنے کے لیے چین یا سری لنکا کے طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے ہوں گے۔
بھارت کا یہ اقدام نہ صرف انتقامی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکا ہے۔ پاکستان کے صبر اور تدبر کو کمزوری سمجھنے کی غلطی کرنے والے بھارتی حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔





