افغانستان کی برآمدات کا بڑا حصہ پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے، جس سے افغانستان کے تجارتی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان سے براہ راست یا بالواسطہ مال کی درآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور پاکستانی جہازوں کو بھارتی بندرگاہوں تک رسائی دینے سے بھی منع کر دیا ہے۔ بھارت کی وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، فورن ٹریڈ پالیسی (FTP) میں ایک نیا ضابطہ شامل کیا گیا ہے جس میں پاکستان سے آنے والے یا پاکستان سے برآمد ہونے والے تمام سامان کی درآمدات یا ٹرانزٹ پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بھارت نے اس اقدام کو قومی سلامتی اور عوامی پالیسی سے منسلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے کسی بھی قسم کی درآمدات کو روکا جائے گا، چاہے وہ براہ راست ہوں یا کسی تیسرے ملک کے ذریعے۔
یاد رہے کہ افغانستان کی برآمدات کا بڑا حصہ پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے، جس سے افغانستان کے تجارتی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جھنڈا بردار کسی بھی جہاز کو بھارتی بندرگاہوں پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بھارت کی یہ تجارتی پابندی پاکستان کو شدید اقتصادی مشکلات کا شکار بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر پاکستان کی فارماسوٹیکل ضروریات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان بھارت سے اپنی فارماسوٹیکل مصنوعات کی بڑی مقدار میں درآمدات کرتا ہے۔
پاکستان نے اس بھارتی اقدام کے جواب میں تمام تجارتی تعلقات معطل کر دیے ہیں اور واہگہ اٹاری بارڈر کے ذریعے ہونے والی تجارت بھی بند کر دی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔





