چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے انسانیت نوازی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے بھارت سے واپس بھیجے گئے دو پاکستانی بچوں کے علاج کی مکمل ذمہ داری اٹھا لی۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے بغیر علاج کے واپس بھیجے گئے دو پاکستانی بچے 9 سالہ عبداللہ اور 7 سالہ منسا پیدائشی طور پر دل کے پیچیدہ عارضوں میں مبتلا ہیں۔ والد شاہد احمد نے بھارتی رویے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کو بغیر کسی علاج کے لوٹا دیا گیا، مگر آرمی چیف نے انسانیت کے ناتے ان کا ہاتھ تھاما اور بچوں کو اے ایف آئی سی راولپنڈی میں داخل کروایا، جہاں انہیں بہترین علاج کی سہولت میسر ہے۔بچوں کے والد نے آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کو نہ صرف فوری طبی سہولیات فراہم کی گئیں بلکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔
اے ایف آئی سی کے ماہر ڈاکٹر محبوب سلطان کے مطابق دونوں بچوں کے دل میں سوراخ ہیں اور پھیپھڑوں کی نالیاں بھی کمزور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی مرحلہ وار سرجری کی جائے گی، جس کا پہلا مرحلہ اگلے چند دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ ڈاکٹر نے واضح کیا کہ بچوں کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ تمام سہولتیں مقامی سطح پر دستیاب ہیں۔
بریگیڈیئر ڈاکٹر خرم اختر نے بتایا کہ اے ایف آئی سی ایک ’’اسٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ اسپتال ہے جہاں دل کے پیچیدہ امراض کے تمام علاج عالمی معیار کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے ایک مشکل بیماری میں مبتلا ضرور ہیں، لیکن اسپتال میں موجود ماہرین ان کے مکمل علاج کے لیے پرعزم ہیں۔
شاہد احمد نے آخر میں کہا:’’میں آرمی چیف کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کو نئی زندگی کی امید دی۔‘‘





