عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے وفاقی حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمن اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔
جاری بیان کے مطابق صدر اے این پی خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ “ضم شدہ اضلاع کے عوام کو پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت جو وعدے کئے گئے تھے، ان پر آج تک مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ نہ تو وہاں بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں، نہ صحت، تعلیم اور روزگار کا کوئی وعدہ پورا ہوا، تو اب ان پر ٹیکس لگانے کی بات کہاں کی انصاف ہے؟
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا موقف ابتدا سے یہی رہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کو کم از کم دس سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دیا جائے تاکہ وہ ترقی یافتہ علاقوں کے برابر آ سکیں۔ “افسوس ہے کہ ان علاقوں کو صرف ووٹ اور جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ عملی طور پر انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔”
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے بلکہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے۔
میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں ملاکنڈ ڈویژن پر ممکنہ ٹیکس کے نفاذ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، “اے این پی ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسز کے نفاذ کے کسی بھی حکومتی اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ ریاست پاکستان نے اس خطے کے عوام کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اُسی پر من و عن عمل کیا جائے۔ اے این پی کا مؤقف اس حوالے سے بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔”
یہ بھی پڑھیں:بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا، بیرسٹر گوہر کا سندھ طاس معاہدہ عالمی عدالت میں لے جانے کا مشورہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان اقدامات کو زبردستی مسلط کیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی عوام کے ساتھ مل کر ہر سطح پر بھرپور احتجاج کرے گی۔





