حمد اللہ خان
ہری پور: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہناز حمید خٹک نے جمعہ کے روز سنٹرل جیل ہری پور میں منشیات بحالی سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل محمد حامد اعظم، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فرحان خان، سینئر سول جج ایڈمن شیراز طارق، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر محمد قاسم، بروبیشن آفیسر خانباز خان، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اختر حسین شاہ، مقدس خان جدون، محی الدین شاہ، ڈاکٹر محمد عمر، ڈاکٹر ایاز سمیت جیل افسران کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
افتتاحی تقریب کے دوران سپرنٹنڈنٹ جیل محمد حامد اعظم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جیل میں منشیات بحالی سنٹر کے قیام کا مقصد نشے کے عادی حوالاتی اور قیدی ملزمان کو اس لت سے چھٹکارا دلانا اور انھیں معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سنٹر میں خصوصی ڈاکٹرز اور ماہر نفسیات کی زیر نگرانی قیدیوں کا علاج کیا جائے گا، جہاں انہیں کونسلنگ کے علاوہ کھیلوں اور دیگر سہولتوں کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام
ابتدائی طور پر منشیات بحالی سنٹر میں دس حوالاتی و قیدیوں کو داخل کیا گیا ہے جن کا علاج جاری ہے، اور آئندہ ہفتوں میں ان کی تعداد 35 تک بڑھا دی جائے گی۔
قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے جیل میں تعلیم بالغاں اور سکل ڈویلپمنٹ سنٹرز بھی کام کر رہے ہیں جہاں قیدیوں کو بنیادی تعلیم اور ہنر سکھایا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہناز حمید خٹک نے اس اقدام کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات بحالی سنٹر کا قیام جیل کے اندر آنے والے منشیات کے عادی افراد کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگا، جس سے وہ صحت مند ہو کر معاشرے میں واپس آئیں گے اور اپنے خاندان کے لیے بوجھ نہیں، بلکہ سہارا بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر،پولیس کاروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات برآمد
انہوں نے مزید کہا کہ جیل ریفارمز کے تحت ہری پور جیل کی انتظامیہ نے تاریخی اقدامات کیے ہیں، جن میں ویڈیو لنک کا آغاز بھی شامل ہے، جس سے حوالاتی ملزمان کو لانے اور لے جانے کا مسئلہ حل ہوگیا ہے، سیکیورٹی مسائل میں کمی آئی ہے، اور سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات بحالی سنٹر کے حوالے سے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ایس او پیز مرتب کیے جائیں تاکہ یہاں سے باہر جانے والے مریضوں کی مؤثر مانیٹرنگ کی جا سکے اور وہ دوبارہ منشیات کی لعنت میں مبتلا نہ ہوں۔





