سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حفیظ الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدرسینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی اور شدید جھڑپ ہوئی ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے سینیٹر ایمل ولی پر نشہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا “مجھے بھی نشہ دیں” جس پر ایمل ولی شدید برہم ہوگئے اور کہا “آپ کو یہ جرات کس نے دی کہ مجھ سے اس انداز میں بات کریں؟ ایک سرکاری ملازم مجھے کیسے کہہ سکتا ہے کہ تم چرس پی کر آئے ہو؟ یہ انداز بالکل ناقابل قبول ہے۔”
ایمل ولی نے چیئرمین پی ٹی اے کے رویے پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا “اگر آپ چرس اور شراب پیتے ہیں تو ایسی باتیں کیا کریں۔”
انہوں نے کمیٹی سے حفیظ الرحمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا “یا تو چیئرمین پی ٹی اے اجلاس میں رہیں گے یا میں رہوں گا۔”
حفیظ الرحمان نے اپنی بات پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان سے غلطی ہوگئی لیکن ایمل ولی نے معافی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔
اس تناؤ کے بعد چیئرمین پی ٹی اے کو اجلاس چھوڑ کر جانا پڑا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی آغا شاہ زیب درانی نے بھی حفیظ الرحمان کے رویے کی شدید مذمت کی اور کہا “چیئرمین پی ٹی اے نے قائمہ کمیٹی کی توہین کی ہے۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس بدتمیزی کا معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے اٹھائیں گے اور ان سے چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کریں گے۔
آغا شاہ زیب نے سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور مناسب کارروائی کریں۔
یہ بھی پڑھیں:کرم:صدہ میں 2کمسن بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام، خاتون سمیت 6 ملزمان گرفتار
اجلاس میں موجود دیگر اراکین نے بھی چیئرمین پی ٹی اے کے غیر مناسب رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور ایمل ولی کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔





