این ایچ اے حکام کے مطابق برف باری کے باعث گلیشیئرز نے راستے کو بند کر دیا تھا، جسے ہیوی مشینری کے ذریعے کاٹ کر دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے برف سے ڈھکے بابوسر ٹاپ کو 6 ماہ بعد سیاحوں اور مسافروں کے لیے کھول دیا ہے۔ اب گلگت بلتستان اور ہنزہ جانے والے مسافر ناران کے راستے بآسانی سفر کر سکیں گے۔
این ایچ اے حکام کے مطابق سردیوں کے دوران ہونے والی شدید برف باری کے باعث گلیشیئرز نے راستے کو بند کر دیا تھا، جسے ہیوی مشینری کے ذریعے کاٹ کر دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی بلکہ گلگت جانے والے مسافروں کے سفر میں بھی 4 سے 5 گھنٹے کی واضح کمی آئے گی۔
بابوسر ٹاپ وادی کاغان کے شمال میں واقع ایک دلکش پہاڑی درہ ہے، جو تقریباً 150 کلومیٹر طویل ہے اور آگے جا کر شاہراہ قراقرم سے جاملتا ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال اس مقام کی بحالی سے جہاں سیاحت کو فروغ ملے گا، وہیں مقامی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔
سیاحوں نے این ایچ اے کے اس بروقت اور مؤثر اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بابوسر ٹاپ کی بحالی سے نہ صرف سفری سہولت بڑھے گی بلکہ گرمیوں میں خنک مقامات کا لطف اٹھانے کا ایک اور راستہ کھل گیا ہے۔
یاد رہے کہ بابوسر ٹاپ ہر سال برفباری کے باعث تقریباً 6 ماہ کے لیے بند ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی افراد کو بھی آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم راستہ بحال ہونے کے بعد اب خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کی امید کی جا رہی ہے۔





