رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ نااہل اور بزدل لوگوں کو پارٹی کی باگ ڈور دینے سے تمام احتجاج ناکام ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی قیادت اور خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہل اور بزدل افراد کو پارٹی کی باگ ڈور دینے کے باعث تمام احتجاجی تحریکیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت بد نیتی سے فیصلے کر رہی ہے، جو پارٹی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کےباہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں مگر ضمانتیں نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ’’ہم تھک چکے ہیں، لیکن خیبرپختونخوا کی حکومت آج تک کسی ایک فیصلے پر بھی نہیں پہنچ سکی، صرف مقدمے چل رہے ہیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا۔‘‘
شیر افضل مروت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو صورتحال کی سنگینی پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کارکردگی ہر محاذ پر کمزور ہے۔
پارٹی قیادت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’’سب لوگ کہتے ہیں قیادت کمپرومائز کر گئی ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے بدنیتی سے ہو رہے ہیں۔ ناتجربہ کار اور بزدل افراد کو آگے لا کر تحریک کو کمزور کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ بانی تحریک انصاف کی رہائی کی مہم صرف ایک اہل اور دلیر قیادت ہی کامیابی سے چلا سکتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) کے چیئرمین پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کی توہین کی ہے اور ان کے الزامات پر آرمی چیف کو نوٹس لینا چاہیے۔
شیر افضل مروت نے ایمل ولی خان کے اس مطالبے کی حمایت کی کہ پی ٹی اے چیئرمین کو برطرف کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے ایمل ولی سے سیاسی اختلافات ہیں، مگر اس معاملے میں وہ ان کے مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہیں۔





