ایمل ولی خان اور چیئرمین پی ٹی اے کے درمیان تلخ کلامی کامعاملہ جرگے کے ذریعے حل ہوگیا

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان کے درمیان سینیٹ اجلاس کے دوران ہونے والی تلخ کلامی کا معاملہ روایتی جرگہ کے تحت خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان ایک جرگہ کے ہمراہ باچا خان مرکز پشاور پہنچے، سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان بھی اس جرگے کا حصہ تھے۔ ایمل ولی خان نے جرگے کو پختون روایات کے مطابق قبول کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو معاف کردیا۔

اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ جو واقعہ پیش آیا، وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا، واقعے پر اُس روز بھی معذرت کی تھی اور آج بھی گلے دور کرنے باچا خان مرکز آیا ہوں،سینیٹر ایمل ولی خان اور اُن کے خاندان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھاکہ باچا خان مرکز تمام مظلوموں اور پشتونوں کا گھر ہے، یہاں جرگے ہی ہوتے ہیں،پشتون روایات کا پاس رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کے جرگے کو قبول کرتا ہوں، باچا خان مرکز میں چیئرمین پی ٹی اے اور اُن کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے کی جانب سے ایمل ولی خان کے متعلق نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے، جس پر ایمل ولی خان نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس کے دوران ایمل ولی خان سے فوری معافی مانگی تھی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یا تو وہ اجلاس میں بیٹھ سکتے ہیں یا چیئرمین پی ٹی اے، جس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے خود ہی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہزیب دورانی سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی چیئرمین پی ٹی اے کے ریمارکس کی شدید مذمت کی اور ایمل ولی خان کے مؤقف کو درست قرار دیا تھا۔

ایمل ولی خان نے معاملہ سینیٹ میں اٹھایا تھا اور چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف تحریکِ استحقاق پیش کرتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

Scroll to Top